جنگ میں شکست پر بوکھلاہٹ کاشکار بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کھوکھلی دھمکیاں دی ہیں۔
یہ زہرفشانی بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گجرات میں فوجی اڈّے کے دورے پر اہلکاروں سے خطاب میں کی۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان نے سرکریک سیکٹر میں کوئی کارروائی کی تو اس کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دیں گے۔
راج ناتھ سنگھ نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان سرکریک کے علاقے میں اپنی عسکری موجودگی اور انفرا اسٹرکچر میں اضافہ کر رہا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کیا ہے لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
بھارتی وزیر دفاع نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے بے بنیاد دعویٰ بھی کیا کہ 1965 میں بھارتی فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور یاد رہے کہ سرکریک سے کراچی تک بھی ایک سڑک جاتی ہے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سرکریک سیکٹر میں دو نئی تنصیبات کا ورچوئل افتتاح بھی کیا جن میں ٹئی ڈل انڈیپینڈنٹ برتھنگ فسیلٹی اور مشترکہ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔
بھارتی وزیر دفاع کے مطابق ان منصوبوں سے ساحلی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
یاد رہے کہ سرکریک دراصل سندھ اور بھارتی ریاست گجرات کے درمیان واقع دلدلی علاقہ ہے جس پر دونوں ممالک اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اس مسئلے پر ماضی میں کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں حتیٰ کہ 2006 میں دونوں ممالک نے مشترکہ سروے بھی کروایا اور متفقہ نقشہ تیار کیا تھا لیکن یہ تنازع تاحال حل نہیں ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ