100 انڈیکس کی شاندار رفتار، سٹاک مارکیٹ میں آج بھی 2 نئے ریکارڈز بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج انڈیکس آخری ٹریڈنگ سیشن میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہوکر ریکارڈ سطح پر بند ہوا، انڈیکس ٹریڈنگ کا اختتام 500 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار 990 کی ریکارڈ حد پر بند ہوا۔ دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 1498 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار 988 کی بلند ترین حد تک ٹریڈ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کیلئے کاروباری ہفتے کا آخری روز بھی تاریخ ساز رہا، 100 انڈیکس کی شانداز رفتار نے آج بھی 2 نئے ریکارڈز بنا ڈالے۔ 100 انڈیکس آخری ٹریڈنگ سیشن میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہوکر ریکارڈ سطح پر بند ہوا، انڈیکس ٹریڈنگ کا اختتام 500 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار 990 کی ریکارڈ حد پر بند ہوا۔ دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 1498 پوائنٹس بڑھ کر پہلی بار 1 لاکھ 69 ہزار 988 کی بلند ترین حد تک ٹریڈ ہوا۔
سٹاک ایکسچیبج میں 485 کمپنیوں میں سے 201 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 254 کمپنیوں میں کمی ہوئی، سٹاک ایکسچینج میں 1 ارب 56 کروڑ شیئرز کے سودے 78 ارب روپے میں طے ہوئے۔ کلیدی شعبوں میں خریداروں کی دلچسپی آٹو موبائل سمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں دیکھی گئی۔
انڈیکس میں نمایاں وزن رکھنے والے سٹاکس جیسے حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ڈی جی کے سی، آئی ان ڈی یو بھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔ واضح رہے گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر انڈیکس 2849 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی بلند ترین پر بند ہوا
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔