غزہ امن معاہدے کیلئے ٹرمپ نے جو 20 پوائنٹس دیے وہ من وعن ہمارے نہیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے 20 نکات اصل میں ہمارے پیش کردہ نکات نہیں ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں لوگ بھوک سے جاں بحق ہو رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے وہاں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں صرف جنگ بندی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی تھی، جس کے بعد 8 مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر 20 نکات تیار کرکے بیان جاری کیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے جو نکات پیش کیے، وہ اصل نکات نہیں بلکہ ان میں رد و بدل کی گئی ہےـ
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ وہ ڈرافٹ نہیں جو ہم نے مرتب کیا تھا۔ دفتر خارجہ پہلے ہی اس حوالے سے وضاحت کر چکا ہے اور ہماری توجہ اسی ڈرافٹ پر مرکوز رہے گی جو 8 مسلم ممالک نے مل کر تیار کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اس کی تعمیر نو ناگزیر ہے۔ یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ مسئلہ فلسطین پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں اور پاکستان کی پالیسی قائداعظم کے مؤقف کے عین مطابق ہے۔
نائب وزیراعظم نے صمود فلوٹیلا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کے ایک سینیٹر بھی شامل تھے۔ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق یا رابطہ نہیں ہے۔ اسرائیلی فورسز نے 22 کشتیاں اور ان میں سوار افراد کو تحویل میں لیا ہے، جن میں سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔