گھارو: جے یو آئی کا صمود فلوٹیلا پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھارو(نمائندہ جسارت)گھارو میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر فلسطین کے لیئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا قافلہ کی گرفتاری اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام یونٹ گھارو کا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق آج بروز جمعہ بعد نماز ظہر جمعیت علمائے اسلام یونٹ گھارو کی جانب سے قائد تحریک مولانا فضل الرحمان کی اپیل پر فلسطینی مسلمان بھائیوں کے لیے امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا جہازوں کو روکنے اور سینیٹر مشتاق احمد کی گرفتاری اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت اور دھشت گردی کے خلاف پرجوش نعرے لگائے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد معاہدے کو مسترد گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء کی بلاجواز گرفتاری کی شدید مذمت کی اس موقع پر مولانا سلمان فارسی، مولانا شکیل چانڈیو ،مولانا عبدالرشید و دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اور اس میں شریک 44 ممالک کے 500 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا شرم کا مقام ہے ان لوگوں کے لیے جو امریکہ سے پینگیں بڑھاتے ہیں اور فلوٹیلا کے شرکاء کی گرفتاری کی مذمت نہیں کرتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔