اسرائیلی فورسز نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی کو بھی حراست میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطین پر قابض اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری کشتی بھی قبضے میں لے لی۔
عرب میڈیا کے مطابق فلوٹیلا کی یہ آخری کشتی، جو پولینڈ کے جھنڈے تلے غزہ کی جانب بڑھ رہی تھی، اسرائیلی فوج نے حراست میں لے لی۔ اس کشتی پر 6 افراد سوار تھے اور یہ غزہ کی سمندری حدود سے تقریباً 43 ناٹیکل میل دور تھی۔
رپورٹس کے مطابق بدھ سے اب تک اسرائیلی فوج 43 کشتیوں کو اپنی تحویل میں لے چکی ہے اور ان پر سوار تقریباً 500 امدادی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں سے 200 سے زائد کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
قابض فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صمود فلوٹیلا کے 200 افراد کو صحرائے نقب کی جیل بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ ڈی پورٹ کیے جانے تک قید رہیں گے، تاہم سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی جیل منتقلی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں لے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.