اسرائیلی بمباری روک دے، حماس امن پر آمادہ ہے، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر جاری بمباری فوری طور پر بند کرے تاکہ محصور فلسطینیوں کو ریلیف پہنچایا جا سکے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی ممکن ہو سکے۔
حماس کے مؤقف پر ردِعمل
ٹرمپ نے کہا کہ حماس کی جانب سے اس کے امن منصوبے کے کچھ حصے قبول کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تنظیم پائیدار امن کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حماس کا ٹرمپ کے غزہ پلان پر جزوی اتفاق، مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور
انہوں نے زور دیا کہ یہ موقع صرف غزہ ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں برسوں سے مطلوب امن قائم کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
مزید مذاکرات کا عندیہ
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا اور ثالثی کرنے والے ممالک اس موقع کو غنیمت جانیں اور فریقین کو میز پر لا کر مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔
Children are reportedly celebrating following Hamas’ positive response to Trump’s plan, along with Trump’s statement calling for an end to the war.
— Eng.Ibrahim Hamdan (@ibm_hmdn) October 3, 2025
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصے قبول کر لیے ہیں لیکن ’بورڈ آف پیس‘ کے نام سے مجوزہ عالمی نگرانی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکی صدر امن منصوبہ حماس صدر ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔