احمدآباد ٹیسٹ: بھارت نے ویسٹ انڈیز کو اننگز اور 140 رنز سے شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
احمدآباد ٹیسٹ میں بھارت نے ویسٹ انڈیز کو اننگز اور 140 رنز سے شکست دے دی۔
کھیل کے تیسرے روز ویسٹ انڈیز نے 286 رنز کے خسارے کے ساتھ اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں اور کوئی بلے باز زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکا۔
ویسٹ انڈین ٹیم دوسری اننگز میں اپنی پہلی اننگز جتنا اسکور بھی نہ کرسکی اور 146 رنز پر ہمت ہار گئی۔
ایلک اتھانازی نے سب سے زیادہ 38 رنز بنائے۔ جسٹن گریوز 25 اور جیڈن سیلز 22 رنز بناسکے۔
بھارت کی جانب سے رویندرا جڈیجا نے چار، محمد سراج نے تین، کلدیپ یادیو نے دو اور واشنگٹن سندر نے ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل گزشتہ روز کھیل کے اختتام پر بھارت نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 448 رنز بناکر اننگز ڈکلیئر کردی تھی۔
دھروو جوریل 125، رویندرا جدیجا ناٹ آٹ 104 اور کے ایل راہول 100 رنز بناکر نمایاں رہے تھے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے روسٹن چیز نے دو جبکہ جیڈن سیلز، جومیل وریکن اور کھاری پیری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی۔
یاد رہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی اننگز میں 162 رنز بنائے تھے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل اس سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 10 اکتوبر سے دہلی میں کھیلا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔