کراچی: لاہور سے آنے والا 50 لاکھ مالیت کا مال بردار ٹرک کارساز کے قریب چھین لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
شہر قائد کی ایک مصروف شاہراہ پر دن دہاڑے ایک بڑی واردات کے دوران لاہور سے آنے والا مال بردار ٹرک مسلح افراد نے چھین لیا، جس میں تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کی کیبل لوڈ تھی۔ واقعہ کراچی کی مرکزی شاہراہ کارساز کے قریب پیش آیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ٹرک کے ڈرائیور کو اغوا کیا اور اُسے گلبائی کے علاقے کے قریب لے جا کر چھوڑا، جبکہ وہ قیمتی سامان سے بھرا ٹرک اپنے ساتھ لے گئے۔ واردات کے فوراً بعدڈرائیور کی اطلاع پر اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (AVLC) نے فوری کارروائی کرتے ہوئےسائٹ ایریا سے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن کے قبضے سےتین ٹن سے زائد کیبل بھی برآمد کر لی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو ٹرک میں نصب ٹریکر کے ذریعے ملزمان تک پہنچنے میں مدد ملی، جس کی مدد سے نہ صرف ٹرک کا سراغ ملا بلکہ قیمتی سامان کی بازیابی بھی ممکن ہوئی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ بہادرآباد میں درج کر لیا گیا ہے۔
ٹرک ڈرائیور نے واردات کی تفصیل بتاتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کارساز کے قریب پہنچا تو اچانک گاڑی میں سوار مسلح افراد نے اُسے روک کر آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا اور تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹے تک مختلف علاقوں میں گھماتے رہے۔ بعد ازاں، ملزمان نے اُسے گلبائی کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گئے اور ساتھ ہی اُس کا موبائل فون اور دیگر ضروری کاغذات بھی چھین لیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے کہ واردات میں اور کون لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی اس قسم کی وارداتوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔