اے این پی کے صدر ایمل ولی سے تمام سیکیورٹی واپس کے لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ نے ان اور ان کے خاندان کو فراہم کی جانے والی تمام سرکاری سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا “وفاقی حکومت کی وزارتِ داخلہ نے مجھ سے، میرے والد اور خاندان سے تمام سیکیورٹی اہلکار واپس بلا لیے ہیں۔ اگر مجھ یا میرے خاندان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔”
انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔“میں اب اپنی ذاتی اور سلالارز کی سیکیورٹی کے ساتھ مزید احتیاط کے ساتھ سفر کروں گا۔ پیر کو ملاقات ہوگی۔”
غزہ امن معاہدہ، ٹرمپ کے 2 ایلچی مصر روانہ، یرغمالیوں کی رہائی پر اہم پیشرفت کا امکان
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اب صوبائی حکومت نے بھی ان کے زیرِ استعمال سیکیورٹی اہلکار واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: “کیا مذاق ہے!”
اے این پی رہنما کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے انہیں فون کر کے وضاحت کی کہ اس فیصلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ اقدام وزارتِ داخلہ کی براہ راست ہدایت پر آئی جی پولیس کی جانب سے کیا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایمل ولی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔