متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین اسمبلی نے سندھ حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں اور ڈی میرٹ پوائنٹس کے نئے نظام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے اہلِ کراچی کے ساتھ کھلی زیادتی اور حکومت کی نااہلی و کرپشن کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

اراکین اسمبلی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کراچی شہر جو ملک کا معاشی مرکز ہے، برسوں سے پیپلزپارٹی کی متعصب پالیسی، نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے پورا صوبہ بدترین شہری سہولیات کا شکار ہے، سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں، ٹریفک سگنلز غیر فعال ہیں، ایسے حالات میں شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ سندھ حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی ہے۔

حق پرست نمائندوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کراچی کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہے جبکہ سڑکوں کی مرمت، نکاسی آب، اور ٹریفک نظام کی بہتری کے بجائے عوام پر جرمانوں کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈی میرٹ پوائنٹس کا نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت نافذ ہوتا ہے جب شہریوں کو محفوظ، منظم اور جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے جبکہ کراچی میں تو شہری روزانہ خطرات سے دوچار ہوتے ہیں، اور اب ان پر جرمانوں کی شکل میں مزید ظلم کیا جا رہا ہے۔

سندھ حکومت پچھلے 17 سالوں سے اس صوبے پر حکمرانی کر رہی ہے اس کے باوجود اس شہر اور صوبے کا حال موہنجوداڑو جیسا بنا ہوا، یہ سب پیپلزپارٹی کی نااہلی اور کرپشن کا نتیجہ ہے، کراچی وفاق کو 70 فیصد جبکہ سندھ کو 90 فیصد ریونیو اکٹھا کرکے  دیتا ہے اس کے باوجود اس شہر کو ظلم و جبر اور ناانصافی کے سوا کچھ نہیں ملتا، اس مشکل حالات میں سندھ کی نااہل حکومت عوام کو سہولیات دینے کے بجائے ان پر مزید بوجھ ڈالنے پر تلی ہوئی جسے ہم ہرگز نہیں ہونے دینگے۔

اراکین اسمبلی نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوری طور پر جرمانوں میں کمی کا اعلان کرے اور شہریوں کو سزا دینے کے بجائے سہولت فراہم کرنے کی پالیسی اپنائے، جبکہ ٹریفک پولیس کی تربیت اور نگرانی کو بہتر بنایا جائے، اور عوامی آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے تاکہ شہری شعوری طور پر قوانین کی پابندی کر سکیں۔

ساتھ ہی انہوں نے ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال اور کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کہ سندھ

پڑھیں:

کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار

کراچی:

ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔

فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف