City 42:
2026-07-24@03:19:20 GMT

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزاؤں میں سختی، بھاری جرمانے

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

ویب ڈیسک : سندھ حکومت نے ٹریفک خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹس سسٹم نافذ کردیا۔   نیا نظام موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کی شق 121 اے کے تحت بارہویں شیڈول میں ترمیم سے نافذ کیا گیا ہے۔

 صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ، سنگل توڑنے اور غلط سمت ڈرائیونگ پر سخت کارروائی ہوگی، نئی فہرست میں جرمانے گاڑیوں کی اقسام کے حساب سے مقرر کیے گئے ہیں۔

ساگو دانہ: فائدہ مند یا نقصان دہ؟ ماہرین نے خبردار کردیا

 انہوں نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ پر 8 ڈی میرٹ پوائنٹس بھی شامل ہوں گے، بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 50 ہزار جرمانہ اور 6 ڈی میرٹ پوائنٹس لگیں گے، لاپرواہی سے گاڑی چلانے پر 25 ہزار جرمانہ اور 8 پوائنٹس مقرر کیے گئے ہیں۔

 پی پی رہنما نے کہا کہ ون وہیلنگ، بغیر ہیلمٹ، غلط لین، دھندلے شیشے اور چھت پر سواریاں بٹھانے پر بھی سزا ہوگی۔

 انہوں نے کہا کہ ٹریفک مینجمنٹ کو جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم لایا جارہا ہے، ڈی میرٹ پوائنٹس سے بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کا ریکارڈ رکھا جاسکے گا۔

پہلی بیوی کی بیوفائی کا غم بھلانے کیلئے شوہر  ہیلی کاپٹر پرپڑوسن بیاہ لایا، ویڈیو وائرل

 شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف جرمانے نہیں بلکہ جانوں کا تحفظ ہے، سگنل توڑنا، ون وہیلنگ اور اوور اسپیڈنگ جان لیوا حرکات ہیں، بار بار خلاف ورزی پر لائسنس معطل یا منسوخ کیا جاسکے گا۔
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ڈی میرٹ پوائنٹس نے کہا کہ

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل