Jasarat News:
2026-07-24@03:25:50 GMT

غزہ امن معاہدہ، حماس مشروط آمادہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-03-2

 

دنیا ایک بار پھر فلسطین کے خون آشام باب پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ اسرائیل کی درندگی اور انسانیت سوز مظالم کے سامنے اگر کوئی ہمت و مزاحمت کا استعارہ بنا کھڑا ہے تو وہ حماس ہے۔ اب جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ امن منصوبہ عالمی سطح پر گفتگو کا مرکز ہے اور حماس نے اس کے بعض بنیادی نکات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے حوالے سے اپنی قطری ثالثوں کی کوششوں سے حماس نے اپنا جواب واشنگٹن تک پہنچایا، جسے صدر ٹرمپ نے خود اپنی ویب سائٹ پر شیئر کیا۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ منصو بے کے ان نکات کو قبول کرنے پر تیار ہے جن کے تحت تمام اسرائیلی قیدی (زندہ یا لاشیں) تبادلے کے فارمولے کے مطابق رہا کیے جائیں گے اور خطے میں ایسے عملی حالات پیدا کیے جائیں جن کے نتیجے میں جنگ بند اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جا سکے۔ حماس کے مطابق یہ موقف طویل داخلی مشاورت کے بعد اختیار کیا گیا جس میں حماس کی قیادت، دیگر فلسطینی دھڑے، علاقائی ثالث اور دوست ممالک شامل تھے تاکہ ایک قومی اور ذمے دارانہ فیصلہ سامنے آئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس ثالثی کوششوں اور بین الاقوامی سہارے کو سراہتی ہے اور مذاکرات میں فوری شمولیت کے لیے بھی تیار ہے تاکہ رہائی، سیکورٹی اور انتظامی معاملات کی تفصیلی شرائط حتمی کی جا سکیں۔ علاوہ ازیں حماس نے واضح کیا کہ وہ غزہ کی عبوری انتظامیہ کو ایک غیرجانبدار، ماہر فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد کرنے کا اصولی طور پر حامی ہے بشرطیکہ ایسی انتظامیہ قومی اتفاقِ رائے اور عرب و اسلامی حمایت کے تحت قائم کی جائے۔ تنظیم نے زور دیا کہ غزہ کے مستقبل کے بنیادی مسائل کسی ایک فریق کے فیصلے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ ایک جامع فلسطینی قومی فریم ورک کے اندر حل ہوں گے، جس میں حماس فعال شریک رہے گی اور قومی مفادات کو مقدم رکھے گی۔ اس پیش رفت کے بعد خطے اور عالمی سطح پر اس منصوبے کے اطراف میں جاری مزاکرات میں تیزی آنے کے امکانات پر تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔ اب نظریں واشنگٹن، تل ابیب اور وہ مسلم و عرب دارالحکومتوں پر مرکوز ہیں جو اس ثالثی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال کئی حوالوں سے تاریخی نوعیت رکھتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہے کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت نے اسرائیل کو ناکام بنایا اور دنیا کو مجبور کیا کہ وہ فلسطینی مؤقف پر غور کرے۔ دوسری جانب، حماس نے اصولی استقامت کے ساتھ یہ پیغام دیا ہے کہ وہ جنگ پر آمادہ ضرور ہے لیکن اصولوں کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان میں دو پہلو اہم ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اسرائیل کو براہِ راست کہا ہے کہ غزہ پر بمباری بند کرے۔ دوسری یہ کہ انہوں نے قطر، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور اردن جیسے ممالک کو امن عمل میں شامل کر کے یہ عندیہ دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن صرف امریکا اور اسرائیل کے فیصلوں پر منحصر نہیں رہا بلکہ خطے کے دیگر اہم کھلاڑی بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔ یہ دباؤ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا اب اس جنگ کو مزید جاری رکھنے کے حق میں نہیں۔ اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ واقعی قیدیوں کی رہائی اور امن کے قیام کا خواہش مند ہے تو اسے غزہ پر اپنی جارحیت روکنا ہوگی۔ مگر ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل اکثر ایسے مواقع کو ضائع کرتا آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی وہی تاریخ دہرائی جائے گی یا اسرائیل بین الاقوامی دباؤ اور فلسطینی عوام کی استقامت کے سامنے جھک جائے گا؟ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ ہو یا مذاکرات کے ذریعے ریلیف لینا، دونوں راستے فلسطینی عوام کے لیے ناگزیر اور درست ہیں۔ جنگ تھمانے سے زخم خوردہ عوام کو وقتی سکون مل سکتا ہے، اور مذاکرات بعض بنیادی انسانی سہولتوں کی بحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس جدوجہد کے اصولی موقف پر کون قائم ہے؟ اور جواب صاف ہے کہ آج بھی اگر کوئی اصولوں پر کھڑا ہے تو وہ حماس ہے۔ دنیا بھر کے مظلوم عوام، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم مزاحمت پسند بھی حماس کو اعتماد کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ حماس محض ایک گروہ نہیں بلکہ فلسطینیوں کی نمائندہ ہے بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور یہ حماس ہی ہے جس نے اسرائیل کے ناقابل ِ شکست ہونے کا طلسم توڑا اور اس کی عسکری برتری کے بھرم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ جس کے بعد ہی امریکا نے خطرے کو بو محسوس کی اور مذکرات کا سلسلہ شروع ہوا کیوں کہ یہ ختم کرسکتے تو یہ یہی کام کرتے لیکن اس میں وہ ناکام ہوئے۔ حماس کی اصولی پالیسی یہی ہے کہ فلسطین کا ایک انچ بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس پالیسی پر قائم رہنا ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں عام مسلمان حماس کو اپنی امید کا مرکز سمجھتے ہیں۔ ہماری امت کا المیہ یہ نہیں کہ مغرب حماس کا دشمن ہے، یہ تو فطری امر ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران حماس کے ساتھ نہیں۔ اگر عرب ممالک اور مسلم قیادت فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی، اسرائیل کے مقابل سفارتی اور عسکری دباؤ ڈالتی، تو آج اسرائیل اتنی دیدہ دلیری سے قتل ِ عام نہ کرتا اور غزہ میں صہیونی درندگی کے شہداء کی تعداد 66 ہزار 288 تک نہیں پہنچتی، 18 مارچ 2025ء سے آج تک 13 ہزار 420 فلسطینی شہید اور 57 ہزار 124 زخمی ہو چکے ہیں مسلم حکمرانوں کی بے عملی اور مجرمانہ خاموشی نے اسرائیل کو یہ جرأت دی ہے کہ وہ عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے کھلے عام معصوم فلسطینیوں کا خون بہاتا رہے۔ فلسطینی عوام کے حوصلے کو سلام کہ وہ ہر قربانی دینے کے باوجود اپنی شناخت اور سرزمین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آزادی کے خواب کو نہ بم دبا سکتے ہیں نہ بارود۔ مگر سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کہاں ہے؟ دنیا بھر کے عوام حماس کے ساتھ کھڑے ہیں مگر قیادتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی دوڑ میں آج بھی مصروف ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جس نے مسلم عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا ہے۔ عوام فلسطین کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، لیکن حکمران مغرب کی خوشنودی کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کرچکے ہیں۔ ایک اور قابل ِ ذکر حقیقت یہ ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں، دنیا بھر کے غیر مسلم مزاحمت پسند بھی حماس کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جنوبی امریکا، یورپ اور افریقا کے کئی انصاف پسند حلقے فلسطینی جدوجہد کو اپنی جدوجہد کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک حماس استعمار کے خلاف ایک علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی لاکھ کوششوں کے باوجود حماس کو تنہا نہیں کرسکے۔ حماس پر اعتماد صرف فلسطینی عوام کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور دنیا کے انصاف پسندوں کا ہے۔ جنگ ہو یا مذاکرات، حماس کا فیصلہ فلسطینی عوام کے لیے اور اصولوں پر مبنی ہی رہا ہے، اور یہی اس کا اصل سرمایہ ہے۔ ممکن ہے آج جو خبر وہ کل نہ ہو اور مذاکرات کی کہانی آگے نہ بڑھ سکے، یہ جنگ اور مذاکرات کا طریقہ ہے لیکن خطرہ ٹلا نہیں ہے، یہ حماس کو بھی معلوم ہے اور اصل مسئلہ اور خطرہ عرب ممالک کے لیے ہے لیکن شاید ابھی یہ غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا کے حکمرانوں کی بے حسی اور غفلت نے اس امت کو کمزور کر رکھا ہے۔ اگر مسلم حکمران واقعی فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو اسرائیل کی درندگی کے دن گنے جا سکتے ہیں۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے اور مذاکرات اسرائیل کے اسرائیل کو نے اسرائیل سکتے ہیں یہ ہے کہ کے ساتھ دنیا کے حماس کو ہے کہ ا دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار