گلگت: ممتاز عالم دین اور ہائیکورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ، 5 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
گلگت: ممتاز عالم دین اور ہائیکورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ، 5 افراد زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 October, 2025 سب نیوز
گلگت میں نامعلوم دہشت گردوں نے دو علیحدہ واقعات میں ممتاز عالم دین اور ہائی کورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے بتایا کہ پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے نامعلوم دہشگردوں کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین مولانا قاضی نثار احمد سمیت ان کے ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ مجموعی طور پر 5 افراد زخمی ہو گئے ہیں تاہم تمام زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔
وزیر داخلہ کہنا تھا کہ دوسرا واقعہ دوپہر کو سٹی ہسپتال کے قریب رونما ہوا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ہائی کورٹ کے سینئر جج ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کی تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو علاقے کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردوں کو کچل دیا جائے گا جب کہ علاقے کی ہم آہنگی کو تباہ کرنے والے سازشی عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔
دوسری جانب، صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ خطیب مرکزی جامع مسجد اہلسنت مولانا قاضی نثار احمد کی گاڑی پر فائرنگ اس وقت کی گئی جب ان کی گاڑی سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سے گزر رہی تھی۔
حملے کے نتیجے میں مولانا قاضی نثار احمد، ان کے دو سیکیورٹی گارڈ اور ڈرائیور زخمی ہوئے ہیں، تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور چاروں معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں سٹی ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
انہوں نے حملہ آوروں کے زخمی حالت میں پکڑے جانے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ۔
ادھر، فائرنگ کے واقعات کے بعد گلگت شہر میں خوف وہراس پھیل گیا اور شہر کی تمام مارکیٹیں اور دوکانیں بند ہو گئیں جس سے سڑکیں سنسان اور ویران ہو گئی۔
پولیس کے اہم افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں کے زیر استعمال دو گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہونے کی معلومات ہیں۔
وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور گورنر سید مہدی شاہ نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ حالات کو خراب کرنے کی سازش ہے، جلد دہشت گردوں کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے گا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربائیو میٹرک تصدیق کے بعد نئے کنکشنز کا اجرا ، آئیسکو اور نادرہ میں معاہدہ طے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد نئے کنکشنز کا اجرا ، آئیسکو اور نادرہ میں معاہدہ طے اسرائیلی دعویٰ جھوٹا ثابت، حماس رہنما خلیل الحیہ منظر عام پر آگئے انڈونیشیا؛ سکول کی عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 36ہوگئی فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ کا اسٹاک ایکسچینج سے شیئرز کی ڈی لسٹنگ کا اعلان عالمی کمپنیاں دھاتوں اور معدنیات میں دلچسپی لے رہی ہیں، پاکستان اپنا فائدہ دیکھے گا: سکیورٹی ذرائع اس بار بھارت انشاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا’: وزیر دفاع خواجہ آصفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ممتاز عالم دین افراد زخمی پر فائرنگ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز