غزہ امن منصوبہ،پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کا حماس کے ردعمل کا خیرمقدم WhatsAppFacebookTwitter 0 5 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حماس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر مثبت رد عمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت جنگ بندی کے حصول میں مثبت ثابت ہوگی، غزہ میں لوگوں کو درپیش سنگین انسانی حالات سے نمٹنے کے لیے اہم موقع کی نمائندگی کرتی ہے،جنگ کے فوری خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کے عدم انخلا کو یقینی بنایا جائے، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جو فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالے، تمام ممالک نے فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی، غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت8ممالک کے وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کا انتظام ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی آمادگی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ کے خاتمے سے متعلق تجویز پر مذاکرات کے آغاز سے متعلق حماس کے ردعمل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں غزہ جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور نفاذ کے طریقہ کار سمیت دیگر شامل ہیں۔جاری اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل سے بمباری فوری روکنے اور تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کے مطالبے کا خیر مقدم کیا، خطے میں امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

وزرائے خارجہ نے اس پیش رفت کو ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کے قیام اور غزہ کے عوام کو درپیش سنگین انسانی صورتحال کے حل کے لیے ایک حقیقی موقع قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا گیا کہ تجاویز کے تمام پہلووں پر جامع مذاکرات فورا شروع کیے جائیں تاکہ ان کے نفاذ کے طریقہ کار پر اتفاق کیا جا سکے۔وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ تجاویز پر عمل درآمد، غزہ پر جاری جنگ کے فوری خاتمے اور ایک جامع معاہدے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ان کوششوں کے ذریعے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی ممانعت، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا، تمام یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی، غزہ اور مغربی کنارے کا اتحاد، تمام فریقوں کی سلامتی کے لیے ایک متفقہ سیکیورٹی نظام، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ و پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان، فتن الہندوستان کے دہشتگردوں کامقامی قبائل پر حملہ، جھڑپ میں 4دہشتگرد ہلاک بلوچستان، فتن الہندوستان کے دہشتگردوں کامقامی قبائل پر حملہ، جھڑپ میں 4دہشتگرد ہلاک گلگت: ممتاز عالم دین اور ہائیکورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ، 5 افراد زخمی بائیو میٹرک تصدیق کے بعد نئے کنکشنز کا اجرا ، آئیسکو اور نادرہ میں معاہدہ طے پیپلز پارٹی کے رہنما تسنیم احمد قریشی کی عمرہ ادائیگی، جدہ میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام پاکستان کا حماس کیجانب سے غزہ کا انتظام عبوری فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم انڈونیشیا؛ سکول کی عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 36ہوگئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد