قاضی نثار احمد پر ہونیوالے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، علامہ بشارت حسین زاہدی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اپنے ایک مذمتی بیان میں قم المقدسہ میں نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ علاقے کے پُرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے اور بدامنی و فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت کی آگ بھڑکانے کی گہری سازش کا حصہ ہے۔ ہم اس مذموم سازش کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ قم المقدسہ میں نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان اور مدیر دفتر علامہ بشارت حسین زاہدی نے امیر اہل سنت والجماعت گلگت بلتستان محترم قاضی نثار احمد صاحب پر ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ علاقے کے پُرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے اور بدامنی و فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت کی آگ بھڑکانے کی گہری سازش کا حصہ ہے۔ ہم اس مذموم سازش کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ علامہ بشارت زاہدی کا کہنا تھا کہ اس بزدلانہ کارروائی کے لیے نگر کالونی جیسی پرامن جگہ کا انتخاب کرنا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ انتخاب واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ سازشی عناصر کا اصل مقصد صرف ایک شخص نہیں، بلکہ پورے علاقائی امن کو تباہ کرنا ہے۔ تمام انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں سے پُرزور مطالبہ ہے کہ وہ ان سازشی عناصر کو جلد از جلد بے نقاب کریں اور ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنائیں۔ ہم گلگت بلتستان کے تمام محب وطن اور باشعور شہریوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کو مضبوط کریں۔ دشمن کو شکست دینے کا واحد طریقہ یہی اتحاد و یکجہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔