NTUFاور دیگر مزدور تنظیموں کا سانحہ بلدیہ پر اجتماع
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سانحہ بلدیہ کے 260 مزدور شہداء کی یاد میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی اور ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع میں مزدور رہنماؤں نے کہا کہ ایک انقلابی منظم مزدور تحریک ہی کارگاہوں میں ہونے والے استحصال اور جبر کے ماحول کو ختم کر سکتی ہے۔ اجتماع کی صدارت بزرگ رہنما حبیب الدین جنیدی نے کی۔
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ یاد دلاتا ہے کہ سرمایہ دار مقامی ہو یا کہ بین الاقوامی دونوں کا مطمع نظر صرف اور صرف منافع ہے۔ بے حسی کی بات یہ کہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل میں ملوث فیکٹری مالکان کو مظلوم بنا دیا گیا اور جرمن برانڈ کک (KIK ) اپنے مجرمانہ فعل کے باوجود بلا روک ٹوک پاکستان کی 2درجن سے زائد فیکٹریوں سے ملبوسات تیار کروا رہا ہے۔ یہ صورت حال دیگر مالکان اور بین الاقوامی کمپنیوں کو شہ دیتی ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں منافع اور انویسٹمنٹ کے مقابل انسانی جان کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔
مزدور رہنماؤں نے کہا سانحہ بلدیہ کے تناظر میں ہونے والی جدوجہد کے نتیجے میں جرمنی اور یورپ میں بین الااقوامی کمپنیوں کو قانونی طور مزدور حقوق کی پاس داری کے قوانین کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کارگاہوں کو مزید غیر محفوظ بنا دے گی۔
سانحہ بلدیہ متاثرین نے کہا کہ سانحہ بلدیہ متاثرین سے روا رکھنے جانے والے غیر انسانی اور متعصبانہ سلوک نے آئی ایل او پاکستان آفس کے مزدور دشمن چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ آئی ایل او لواحقین کے لیے مختص اربوں کی رقم کا حساب دینے سے گریزاں ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ کارگاہوں کو محفوظ بنایا جائے، جرمن برانڈ سانحہ بلدیہ متاثرین سے معافی مانگے، شہداء کی یاد میں فیکٹری کے مقام پر یادگاری ٹریننگ سینٹر تعمیر کیا جائے، تمام لواحقین کو کورٹ کے احکامات کے مطابق پنشن کی ادائیگی کی جائے، یورپ اور جرمنی میں ڈیوڈیلیلیجنس لیجیسلیشن کو مزید مزدور دوست بنایا جائے، پاکستان اکارڈ میں توسیع کی جائے اور اس کے دائرہ اختیار میں یونین سازی، اجرتوں کی ادائیگی اور سماجی تحفظ و پنشن سے مزدوروں کی رجسٹریشن کو شامل کیا جائے۔ غیر قانونی ٹھیکہ داری نظام ختم کیا جائے، لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، ورکرز ویلفیئر اداروں میں مالی و انتظامی بدعنوانی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اجتماع سے خطاب کرنے والوں میں ناصر منصور، جنرل سیکرٹری نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، قاضی خضر، وائس چیرپرسن ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان، حسنہ خاتون چیئرپرسن سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی ایشن، رفیق بلوچ صدر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، سائرہ فیروز، صدر ہوم بیسڈ وومین ورکرز فیڈریشن، کامریڈ گل رحمان، سربراہ ورکرز رائٹس موومنٹ، ریاض عباسی، رہنما سائٹ لیبر فورم اور دیگر شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ بلدیہ متاثرین نے کہا
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز