اسلای جمعیت طلبہ کا اسرائیلی جارحیت کیخلاف ریلی کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کی جانب سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور ”گلوبل صمود فلوٹیلا” کے پرامن قافلے پر صہیونی فورسز کے حملے اور انسانی حقوق کے کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف ناظم جمعیت حیدرآباد مقام عبدالرافع قاضی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع ناظم حیدرآباد عبدالرافع قاضی، سیکریٹری حافظ محمدریحان ودیگر نے رہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا مجوزہ امن منصوبہ قابل مذمت عمل ہے جو فلسطینی مسلمانوں اور مسجد اقصیٰ کو صیہونی قوتوں کے حوالے کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیلی بمباری اور حملوں میں 70 ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ایک دھوکہ ہے پاکستان کے حکمرانوں کوجرات مندانہ فیصلے لینے ہوں گے اسرائیل کو بطور ریاست کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا حکومتِ پاکستان اور او آئی سی سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ معاملہ فی الفور اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے اور سیاسی و سفارتی ذرائع استعمال کر کے یرغمال بنائے گئے افراد کی بحفاظت اور فوری رہائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین پر صرف اور صرف اہلِ فلسطین کا حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔