محنت کش اتحاد کے ذریعے حقوق حاصل کرسکتے ہیں،قاسم جمال
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے جنرل سیکرٹری محمد قاسم جمال نے کورنگی انڈسٹریل کے دورے کے موقع پر این ایل ایف کی ملحقہ یونین انڈس فارما لیبریونین کے عہدیداران سے خصوصی ملاقات کی اور محنت کشوں کے مسائل ودیگر مشکلات پر بات چیت کی گئی۔ انڈس فارمالیبر یونین سی بی اے کے چیئرمین محمد اکرم، نائب صدر محمد حبیب، جنرل سیکرٹری عبدالحفیظ، جوائنٹ سیکرٹری مظہر خان، فنانس سیکرٹری آصف رضا ودیگر ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قاسم جمال نے کہا کہ ٹریڈ یونینز کا کام جدوجہد اور کشمکش کا کام ہے۔ محنت کشوں کی مراعات میں اضافہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ این ایل ایف نے ہمیشہ صنعتی ماحول میں بہتری پیدا کی ہے اور خوشگوار صنعتی ماحول سے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔محنت کش اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کریں تو کوئی ان کا حق چھین نہیں سکتا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ صنعتی قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہیں۔ انڈس فارما لیبر یونین سی بی اے کے جنرل سیکرٹری عبدالحفیظ نے کہا کہ این ایل ایف نے ہمیشہ ہماری رہنمائی کی ہے اور محنت کشوں کی ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے جس سے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔