شوہر سے علیحدگی کی خبریں، ثنا جاوید کی انسٹا اسٹوری وائرل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کی جانب سے اداکارہ ثنا جاوید سے علیحدگی کی خبروں کو جھوٹا قرار دینے کے بعد ثنا کی انسٹاگرام اسٹوری بھی وائرل ہوگئی۔ شعیب ملک ان دنوں اپنی اہلیہ ثنا جاوید سے علیحدگی کی افواہوں کے بعد خبروں میں ہیں۔ حال ہی میں شعیب ملک نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب بکواس ہے، الحمدللہ میری شادی شدہ زندگی بہت اچھی اور خوشگوار گزر رہی ہے، میرا بیٹا دبئی میں اور میری والدہ سیالکوٹ میں رہتی ہیں، میں کراچی میں رہتا ہوں، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے مصروف ہوں لیکن ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ شعیب ملک کا بیان میڈیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا جب کہ بھارتی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پیجز نے بھی شعیب ملک کے بیان کو شیئر کرنا شروع کردیا۔ حال ہی میں ثنا جاوید نے ایک فیشن پیج پر شیئر انسٹا اسٹوری کو اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔ اسٹوری میں ثنا کے بارے میں شعیب کے بیان پر جوڑے کو برائی سے بچانے کی دعا دی گئی ہے۔ اداکارہ ثنا نے اسکرین شاٹ پر کیپشن لکھتے ہوئے آمین آمین لکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ شعیب ملک اور ثنا جاوید کی شادی گزشتہ سال جنوری میں ہوئی تھی جس کا اعلان دونوں نے 20 جنوری کو ایک مشترکہ پوسٹ کے ذریعے کیا تھا۔ جوڑے نے دو تصاویر شیئر کیں اور پوسٹ کے کیپشن میں 'الحمدللہ' کے ساتھ ساتھ قرآن شریف کی ایک آیت بھی لکھی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔