وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین سے ملاقات؛عالمی سطح پر مزید تعاون اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سٹی 42: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، جناب فلیپو گرانڈی کے ساتھ وفد کی سطح پر ملاقات کی۔
وفاقی وزیر برائے سیفران، امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، جناب فلیپو گرانڈی کے ساتھ وفد کی سطح پر ملاقات کی۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پاکستان میں مہاجرین، بالخصوص افغان مہاجرین سے متعلق انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کی مسلسل معاونت کو سراہا۔
ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کے عہدے میں توسیع
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 46 برسوں سے لاکھوں مہاجرین کی فراخ دلی سے میزبانی کرتا آ رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کو وہی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو پاکستانی شہریوں کو حاصل ہیں، جن میں صحت، تعلیم، بینکاری، پانی و صفائی اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔انہوں نے UNHCR اور بین الاقوامی برادری کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا، تاہم اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ بین الاقوامی برادری کی معاونت میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے پائیدار حل کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مزید تعاون اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
گوجرانوالہ کے دو مسافروں کی جعلی ویزا پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام
انہوں نے کہا، "ہم بین الاقوامی برادری، بالخصوص UNHCR کی حمایت کے شکر گزار ہیں اور ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں مہاجرین کی معاونت جاری رکھیں۔"انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ہر اُس اقدام یا کوشش کی مکمل حمایت کرے گی جو اس دیرینہ مسئلے کے قابلِ عمل اور قابلِ ترجیح حل کی جانب لے جائے۔
سوشل میڈیا کے مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قوانین میں اضافے کا اعلان ؛ سزائیں بھی بڑھ گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے برائے مہاجرین وفاقی وزیر انہوں نے
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔