کراچی کے تاجروں کو پھر گولیوں میں لپٹی بھتے کی پرچیاں ملنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے تاجروں کو پھر گولیوں میں لپٹی بھتے کی پرچیاں ملنے لگیں۔ بھتے کیلئے ایرانی اور اماراتی فون سمز کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
بھتے کی پرچیاں ملنے کے بعد کاروباری برادری میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تاجر برادری کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دفاتر، دکانوں اور فیکٹریوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا مشورہ دے دیا۔
ہفتہ کی رات ملیر پندرہ کے علاقے میں زیر تعمیر عمارت پر پل کے اوپر سے فائرنگ کی گئی تھی، پولیس نے واقعے کا مقدمہ زیر تعمیر شاپنگ پلازہ کے مارکیٹنگ منیجر کی مدعیت میں درج کرلیا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک بلڈر نے بتایا ہے کہ پچھلے 2 ماہ میں 5 بلڈرز کو بھتوں کی کالز موصول ہوئیں۔ کروڑوں روپے بھتہ مانگا گیا۔
کال دبئی اور ایران کے نمبرز سے کی گئیں۔ ایک بلڈر کے دفتر پر فائرنگ بھی کی گئی۔ تاہم بلڈر نے واقعہ رپورٹ نہیں کیا۔
کراچی چیمبر نے لاء اینڈ آرڈر کو پریشان کن قرار دے دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے ملیر میں زیرِ تعمیر شاپنگ پلازہ پر فائرنگ کا واقعہ بھتہ خوری نکلا تھا، واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، بھتہ خوروں نے 5 کروڑ روپے 1 ہفتے میں دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔