سابق چیف جج رانا شمیم و دیگر کےخلاف توہین عدالت کا کیس ختم
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آ باد( آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 برس بعد سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم و دیگر کے خلاف توہین عدالت کا کیس ختم کر دیا۔ پاناما کیس سے متعلق نواز شریف کے حق میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے مبینہ بیان حلفی کے حوالے سے توہین عدالت کا کیس عدالت نے غیر مو¿ثر ہونے پر نمٹا دیا۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت
کی، سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش نہ ہوئے۔وکیل نے بتایا کہ رانا شمیم نے معافی نامہ جمع کروایا تھا اس کے بعد کیس لگا ہی نہیں، اب یہ کیس غیر مو¿ثر ہوچکا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس کافی عرصے بعد مقرر ہوا ہے، اس کیس میں فرد جرم صرف رانا شمیم پر عائد ہوتی تھی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آخری سماعتوں میں رانا شمیم نے عدالت میں معافی نامہ جمع کروایا تھا، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے کہا کہ پھر ہم اس کیس کونمٹا دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سابق چیف جج
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔