ملٹری عدالت سے سزاﺅں کے خلاف اپیل کا حق نہ دینے کے خلاف درخواست سماعت کےلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائیکورٹ میں ملٹری عدالت سے سزاﺅں کے خلاف اپیل کا حق نہ دینے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ 9 اکتوبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے 10 دن کی مہلت دے رکھی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل
درآمد کے حوالے سے وفاقی سیکرٹری قانون راجہ نعیم اختر کو جواب سمیت طلب کیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا نصر عدالت میں پیش ہوں گے۔ درخواست گزار راحب محبوب کے وکیل نجیب فیصل نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ ملٹری عدالت نے جاسوسی کے الزام میں انہیں 12 سال قید کی سزا سنائی تاہم سزا سنانے سے قبل الزامات کی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ بغیر الزامات کی فہرست کے سنائی گئی سزا قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الزامات کی فہرست طلب کی جائے اور اپیل کا حق دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔