پاکستان کے علاقوں گلگت، چترال اور کالام میں موسم سرما کی پہلی برفباری، متعدد سیاح پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری کا آغاز ہو گیا ہے۔ چترال، کالام، مالم جبہ اور گٹی میڈوز سمیت مختلف پہاڑی مقامات پر برفباری سے جہاں ایک طرف دلکش مناظر نے سیاحوں کو محظوظ کیا ہے، وہیں دوسری جانب سرد موسم اور برف کی شدت نے سفری مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کے مشہور سیاحتی مقام گٹی میڈوز میں برفباری کے باعث متعدد گاڑیاں راستے میں پھنس گئی ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ’گلگت بلتستان ٹوارزم‘ نامی پیج نے ایک پوسٹ میں ضلعی انتظامیہ اور حکومتِ گلگت بلتستان سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ برفباری میں پھنسے ہوئے مسافروں کو محفوظ مقام تک پہنچایا جا سکے۔
گٹی میڈوز، گلگت بلتستان میں تازہ اطلاعات کے مطابق 6 اکتوبر 2025 کو یہاں برفباری کے باعث کچھ گاڑیاں راستے میں پھنسنے کی اطلاع ہے۔
حکومتِ گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ فوراً ایکشن لیا جائے تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو محفوظ مقام تک پہنچایا جا سکے۔
سیاحوں سے گزارش ہے کہ… pic.
— Gilgit Baltistan Tourism. (@GBTourism_) October 6, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ سیاحوں سے گزارش ہے کہ دیوسائی یا چلم چوکی کے راستے سفر سے پہلے موسم اور سڑک کی صورتحال ضرور چیک کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش اور برفباری بالائی علاقوں میں برفباری برفباری چترال کالام گلگت بلتستان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بارش اور برفباری بالائی علاقوں میں برفباری چترال کالام گلگت بلتستان گلگت بلتستان
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔