پاکستانی ڈرامہ و فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ثنا جاوید نے اپنے نام سے منسوب تصدیق شدہ فیس بُک پیچ کو جعلی قرار دے دیا۔فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر سٹوری شیئر کرتے ہوئے ثنا جاوید نے جعلی تصدیق شدہ فیس بک پیچ کے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے فالوورز کو خبردار کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور انسٹا سٹوری شیئر کرتے ہوئے اپنے آفیشل فیس بک پیج کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ ان کا آفیشل فیس بک پیج غیر تصدیق شدہ ہے۔ثنا جاوید کے نام سے منسوب جعلی تصدیق شدہ فیس بک پیج ان کا نام اور تصویر استعمال کررہا ہے جہاں فالوورز کی تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے جو حقیقی آفیشل پیج سے زیادہ ہیں جبکہ ثنا جاوید کے آفیشل فیس بک پیچ پر فالوورز کی تعداد 12 لاکھ سے زائد ہے۔اداکارہ نے اپنی انسٹا سٹوری میں لکھا کہ الرٹ! یہ ایک جعلی پیج ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی تصدیق کیسے ہوئی۔انہوں نے مزید لکھا کہ براہ کرم اس اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کے بیانات یا مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں، میں نے پہلے ہی اسے رپورٹ کردیا ہے، جلد ہی اس فراڈ پیج کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ثنا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ میں جعلی پیج پر پوسٹ کی جانے والی کسی بھی چیز کو کنٹرول یا سپورٹ نہیں کرتی اور اپنے فالوورز سے ہوشیار رہنے کی درخواست کرتی ہوں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ثنا جاوید فیس بک

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ