کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
چند روز قبل گوجرانوالہ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے کرپٹو کرنسی اور جعلی انویسٹمنٹ اسکیموں کے ذریعے کیے جانے والے بڑے آن لائن فراڈ کا سراغ لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو کرنسی کی اجازت: عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں کیسے منتقل کیا جاسکے گا؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مختلف بینک اکاؤنٹس اور موبائل نمبرز استعمال کر کے متاثرہ لوگوں سے بڑی رقم وصول کر رہے تھے۔ ایک شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس سے اکیلے ہی 12 لاکھ 80 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔
واضح رہے کہ ملزمان جعلی واٹس ایپ پروفائلز، بیرون ملک نمبرز اور دھوکا دینے والے آن لائن اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو فرضی ڈیجیٹل اسکیموں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرتے تھے۔
اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 170/2025 سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر گوجرانوالہ میں درج کر لی گئی ہے۔ مقدمہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعات 13، 14 اور 16 کے تحت اور پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
کچھ رپورٹس کے مطابق ایک واقعہ ایسا بھی سامنے آیا ہے جس میں ملزمان نے کرپٹو کرنسی کو پاکستانی روپوں میں تبدیل کر کے ملک کے اندر پیسے نکالے۔ یعنی کرپٹو لیں، اسے پاکستانی کرنسی میں بدلیں اور پھر وہی رقم یہاں بینک یا نقدی کی صورت میں حاصل کر لی۔
مزید پڑھیے: بھارت کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے انکاری کیوں؟
کرپٹو کرنسیز کو کیسے کسی بھی کرنسی میں منتقل کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کو کیسے فراڈ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کرپٹو کرنسیز کے ایکسپرٹ طاہر نقاش کا کہنا تھا کہ ٹوکن ڈمپنگ یا ’پمپ اینڈ ڈمپ‘ ایک سنگین فراڈ ہے جس میں عام سرمایہ کاروں کو جھوٹی معلومات دے کر نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار بظاہر ایک عام سرمایہ کاری اسکیم لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ مارکیٹ میں دھوکہ دہی اور ہیرا پھیری کی ایک شکل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم میں پہلے ’پمپ‘ مرحلہ آتا ہے جہاں فراڈیے کسی سستے یا نئے ٹوکن کو بڑی مقدار میں خرید کر اس کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھاتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر جعلی ہائپ پیدا کرتے ہیں، جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں اور نئے سرمایہ کاروں میں FOMO (یعنی موقع کھونے کا ڈر) پیدا کرتے ہیں تاکہ لوگ جلدی سرمایہ لگائیں۔
اس کے بعد ’ڈمپ‘ مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جب قیمت غیر معمولی حد تک اوپر پہنچ جاتی ہے تو فراڈیے اچانک اپنے تمام ٹوکن فروخت کر دیتے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جاتی ہے اور قیمت تیزی سے گر جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ لوگ جو بعد میں خریدتے ہیں، انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اور ان کے پاس تقریباً بے وقعت ٹوکن رہ جاتے ہیں۔
طاہر نقاش کے مطابق یہ عمل سراسر دھوکہ دہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف چند افراد کا منافع اور اکثریت کا نقصان ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے لیکن کرپٹو مارکیٹ کی غیر ریگولیٹڈ فطرت کے باعث مجرموں کو پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا کرپٹو ریزرو: وژن سے حقیقت تک
ان کا مزید کہنا ہے کہ ٹوکن ڈمپنگ اکثر ‘Rug Pull’ جیسے دوسرے فراڈز سے بھی جڑا ہوتا ہے جس میں پروجیکٹ کے بانی سرمایہ کاروں کے پیسے اکٹھے کرنے کے بعد اچانک غائب ہو جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مکمل طور پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر اسامہ احسان کے مطابق کرپٹو کرنسیاں کاغذی کرنسی میں تبدیل کرنا تکنیکی طور پر سادہ مگر قانونی اعتبار سے حساس عمل ہے۔
عام طور پر اس کام کے 3 طریقے مقبول ہیں۔ پہلا طریقہ مرکزی ایکسچینج ہے جہاں آپ ایکسچینج پر اکاؤنٹ بناتے ہیں، شناختی کاغذات (KYC) جمع کراتے ہیں، اپنا کرپٹو وہاں بیچ کر حاصل ہونے والی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔
دوسرا طریقہ پیٔر ٹو پیٔر (P2P) یا لوکل مارکیٹ کا ہے جس میں خریدار اور بیچنے والا براہِ راست ایک دوسرے سے رابطہ کر کے بینک ٹرانسفر یا دوسرے ذرائع سے لین دین کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں کرپٹو کرنسی کا پہلا اہم قومی قانون منظور، صدر ٹرمپ کے دستخط کے منتظر
تیسرا طریقہ اوور دی کاؤنٹر یا بروکرز کا ہے جو عام طور پر بڑے حجم کے لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور بہتر ریٹ یا کم سلیپیج فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی کرنسی (ڈالر/یورو) کے لیے عموماً معتبر مرکزی ایکسچینج استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے آپ اپنا کرپٹو اس ایکسچینج یا اپنے والیٹ میں رکھیں، پھر وہاں دستیاب فیئٹ-پیئر (مثلاً بِٹ کوائن/ڈالر یا اِیتھیریم/یورو) پر بیچیں۔ فروخت کے بعد حاصل شدہ رقم بینک میں منتقل کرنے کے لیے آپ کو عام طور پر بینک لنک، سوِفٹ یا سیپا معلومات اور کے وائے سی/پہچان کی تصدیق درکار ہوتی ہے۔
اگر حجم بڑا ہو تو اوور دی کاؤنٹر ڈیسک یا مستند بروکر کے ذریعے بہتر ریٹ اور کم سلیپیج مل سکتا ہے اور اس حوالے سے ماہرین نصیحت کرتے ہیں کہ بینک فیس، ایکسچینج فیس، اور ممکنہ فیئٹ وِد ڈرال حدود پہلے چیک کریں۔
پاکستانی روپوں میں کنورژناسامہ کے مطابق پاکستان میں ہر بینک یا ادارہ کرپٹو کو براہ راست قبول نہیں کرتا اس لیے عام طور پر 2 راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ مقامی کرپٹو ایکسچینجز یا P2P مارکیٹ کے ذریعے کرپٹو بیچا جائے اور پاکستانی روپیہ براہ راست اپنے مقامی بینک اکاؤنٹ میں حاصل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستان کرپٹو کرنسی میں واقعی بھارت کے مقابلے میں آگے نکل گیا ہے؟
دوسرا یہ کہ کرپٹو کو پہلے ڈالر یا یورو میں نکالا جائے اور پھر قانونی طریقوں (مثلاً ریمیٹنس یا پیمنٹس) سے PKR حاصل کیا جائے۔ دونوں صورتوں میں فیس، وقت اور بینک یا ریگولیٹری پالیسیوں کو سامنے رکھنا پڑتا ہے، اس لیے صرف مستند، لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز یا قابلِ اعتماد P2P ٹریڈرز کے ساتھ کام کریں تو ہی بہتر ہے۔
خطرات اور قانونی/ٹیکساس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو-فِیَٹ کنورژن کے دوران غیرشفاف یا غیرقانونی راستے (مثلاً کے وائے سی بچا کر لین دین کرنا، یا غیرقابلِ تصدیق نجی بکوں کا استعمال) منی لانڈرنگ اور قانونی مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہر لین دین کی رسید/ریکارڈ رکھیں اور اپنی ملک کی ٹیکس قوانین کے مطابق آمدنی/فائدے کی درست رپورٹنگ کریں۔ اگر آپ بڑی رقم نکال رہے ہیں تو پہلے مالیاتی مشیر یا قابلِ اعتماد وکیل سے مشورہ لیں تاکہ قانونی اور ٹیکس نتائج واضح ہوں۔
کیونکہ کرپٹو کو ڈالر، یورو یا پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا ممکن اور عام عمل ہے مگر اسے درست اور محفوظ طریقے سے کرنا ضروری ہے۔
معتبر ایکسچینج/پلیٹ فارم، کے وائے سی/اے ایم ایل کی پابندی، ٹیکس کی رپورٹنگ اور بینک/ریگولیٹر کی پالیسیوں کی جانچ لازمی ہے۔ غیرقانونی یا غیر شفاف راستے اپنانا خطرناک اور سزا کے قابل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کرپٹو کرنسی کی وجہ سے زرمبادلہ میں کمی ہوسکتی ہے؟
اس کرنسی کے ذریعے کسی قسم کے فراڈ کیے جاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں طاہر نقاش کا کہنا تھا کہ اس مارکیٹ میں فراڈ معمول کا حصہ ہے۔ جس کے لیے آپ کو سرمایہ کاری کے دوران انتہائی احتیاط برتنا پڑتی ہے۔
قیمت بڑھا کر بیچناکچھ لوگ سستے سکے بڑی مقدار میں خرید لیتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا یا گروپوں میں شور مچا کر ان کی قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ جب عام لوگ خرید لیتے ہیں تو یہ لوگ اپنے سکے بیچ کر منافع نکال لیتے ہیں اور قیمت گر جاتی ہے جس سے بعد میں خریدنے والوں کو نقصان ہوتا ہے۔
پروجیکٹ چھوڑ دیناکسی منصوبے کے بانی یا ٹیم پہلے پیسے جمع کر لیتی ہے اور پھر اچانک منصوبہ بند کر دیتی ہے یا فنڈز لے کر غائب ہو جاتی ہے۔ اس طرح سرمایہ کاروں کے پاس بے قدر سکے رہ جاتے ہیں اور پیسے ضائع ہو جاتے ہیں۔
جعلی ابتدائی فروختنئے منصوبے کے نام پر پہلے سے سرمایہ مانگ کر بڑے منافع کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر وہ منصوبہ حقیقت میں کبھی شروع نہیں ہوتا۔ لوگوں کو لالچ دے کر پیسے جمع کر لیے جاتے ہیں اور پھر وعدے پورے نہیں ہوتے۔
فریب دہ لنکس اور جعلی ویب سائٹسدھوکہ دہ لنکس یا ویب سائٹس بنائی جاتی ہیں تاکہ آپ کی نجی معلومات، پاس ورڈ یا بحالی الفاظ حاصل کر لیے جائیں۔ ان لنکس پر کلک یا معلومات دینے سے آپ کے فنڈز چوری ہو سکتے ہیں۔
سم نمبر منتقل کروا کر حملہحملہ آور آپ کا موبائل نمبر کسی دوسری سم پر منتقل کرا لیتے ہیں۔ پھر وہ 2 قدمی توثیق کے کوڈ لے کر آپ کے اکاؤنٹس تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے موبائل نمبر کی اضافی حفاظت ضروری ہے۔
براہ راست خرید و فروخت میں دھوکہجب خریدار اور بیچنے والا براہِ راست لین دین کرتے ہیں تو جعلی رسید، ادائیگی کی نقلی تفصیلات یا چارج بیکس کے ذریعے رقم چھین لی جاتی ہے۔ معروف اور قابلِ اعتماد فریق کے ساتھ کریں یا معروف مارکیٹ استعمال کریں۔
مارکیٹ میں ہیراپھیریکچھ لوگ جان بوجھ کر خرید و فروخت کر کے مارکیٹ کا حجم بڑھاتے یا قیمت کو مصنوعی طور پر اُوپر نیچے کرتے ہیں۔ اس سے عام سرمایہ کار گمراہ ہو کر نقصان اٹھاتے ہیں۔
اسمارٹ کوڈ کی خامیاں اور حملےاگر کسی پروجیکٹ کا کمپیوٹر کوڈ کمزور یا غلط ہو تو ہیکرز اُس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر فنڈز چرا سکتے ہیں۔ سرمایہ لگانے سے پہلے کوڈ کی جانچ یا آڈٹ دیکھیں۔
میلویئر اور کی لاگر حملےکمپیوٹر یا فون میں نقصان پہنچانے والا سافٹ ویئر انسٹال ہو جائے تو وہ آپ کے پاس ورڈ یا نجی کنجی چوری کر لیتا ہے۔ اپنے آلات اپ ڈیٹ رکھیں اور مشکوک ایپس نہ چلائیں۔
جعلی اشتہارات اور جعلی سوشل چینلزسوشل میڈیا پر بنائے گئے جعلی اکاونٹس، اشتہارات یا پیغامات لوگوں کو لالچ دے کر رقم یا نجی معلومات لینے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ہمیشہ سرکاری یا تصدیق شدہ ذرائع سے معلومات چیک کریں۔
پنزی یا اعلیٰ منافع والی اسکیمیںکچھ اسکیمیں نئے شرکا کے پیسے سے پہلے والوں کو ادائیگیاں کرتی ہیں اور بہت زیادہ منافع کا وعدہ کرتی ہیں۔ یہ اسکیمیں طویل نہیں چلتی اور آخر میں زیادہ لوگوں کو نقصان ہوتا ہے۔
اگر آپ پیسے کسی کم شہرت یا غیر محفوظ ایکسچینج میں رکھتے ہیں تو وہ اندرونی دھوکہ یا ہیکنگ کے باعث ختم ہو سکتے ہیں۔ معروف، شفاف اور ریگولیٹڈ اداروں کو ترجیح دیں اور طویل مدتی رقم اپنے کنٹرول میں رکھیں۔
جعلی تحائف اور کلیم لنکسبہت سی جگہوں پر مفت ٹوکن یا تحفے کے نام پر لنکس دیے جاتے ہیں جو دراصل فریب ہوتے ہیں۔ ایسے لنکس پر کلک کرنے یا اپنی نجی معلومات دینے سے بچیں۔
جذباتی چالوں کے ذریعے دھوکاآن لائن رشتہ قائم کر کے لوگوں کا اعتماد جیت کر پھر مالی مطالبات کیے جاتے ہیں یا سرمایہ کاری میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ کسی بھی مالی معاملے میں ثبوت مانگیں اور جلد بازی نہ کریں۔
غیرقانونی راستے اور منی لانڈرنگکچھ افراد کرپٹو کو چھپا کر یا غیر شفاف راستوں سے نقدی میں بدل کر غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ خطرناک ہے اور قانونی سزائیں ہو سکتی ہیں اس لیے صرف شفاف اور شناختی تصدیق والے راستے اختیار کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پمپ اینڈ ڈمپ ٹوکن ڈمپنگ کرپٹو فراڈ کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی کی منتقلی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پمپ اینڈ ڈمپ ٹوکن ڈمپنگ کرپٹو فراڈ کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی کی منتقلی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سرمایہ کاروں کیے جاتے ہیں کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری مارکیٹ میں ہے جس میں کرتے ہیں لیتے ہیں کے مطابق سکتے ہیں کے ذریعے لوگوں کو کرپٹو کو جاتا ہے کا کہنا سکتا ہے اور پھر ہوتا ہے ہیں اور لین دین جاتی ہے ہیں تو کے لیے اس لیے ہے اور
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز