لداخ تشددکیس،بھارتی عدالت عظمیٰ کامودی حکومت کونوٹس
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارتی عدالت عظمیٰ نے لداخی تعلیم کے اصلاح کار اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا، جس میں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حالیہ حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت، لداخ انتظامیہ اور جودھ پور جیل سے جواب طلب کیا ہے۔یہ معاملہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بینچ کے سامنے آیا۔ انگمو نے این ایس اے کے تحت ماحولیاتی کارکن کی حراست کو چیلنج کیا اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
وانگچک کو 26 ستمبر کو سخت این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پانچ افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو گئے تھے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ انتظامیہ کو سونم وانگچک کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ حراست سے متعلق دستاویزات اور حکم کی کاپی درخواست گزار وانگچک کی اہلیہ کو فراہم کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ سونم وانگچک کو جیل میں مناسب طبی امداد فراہم کی جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ 14 اکتوبر (منگل) مقرر کی ہے۔ وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے اپنی درخواست میں کہا کہ سونم وانگچک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں کسی قانونی عمل کے مطابق گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اپیل کی کہ عدالت عظمیٰ فوری طور پر مداخلت کرے اور سونم وانگچک کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ان کے تحفظ اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سے پہلے گیتانجلی انگمو نے صدر دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھا تھا۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ ‘میرے شوہر کو گزشتہ 4 سال سے عوام کے مفادات کے لیے کام کرنے پر بدنام کیا جا رہا ہے، وہ کبھی کسی کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے’۔ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو لداخ میں پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
بینچ کے سامنے عرضی گزار کی نمائندگی سینئر وکیل کپل سبل اور وویک تنکھا نے کی، اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کی۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کی اگلی سماعت آئندہ منگل کو مقرر کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سونم وانگچک کو عدالت عظمی وانگچک کی
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ