اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امدادی کشتیوں کے بیڑے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے اور سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد رہائی پانے والے مزید کارکنان نے اپنی حراست کے دوران اسرائیلی فورسز اور جیل حکام کی جانب سے سخت اور غیرانسانی سلوک کے مزید انکشافات کیے ہیں۔

روم پہنچنے پر اطالوی کارکن چیزرے توفانی نے بتایا کہ ہمیں بہت برا سلوک برداشت کرنا پڑا۔ فوج کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا، جہاں ہمیں ہراساں کیا گیا۔ اسی طرح اٹلی کی اسلامی کمیونٹیز یونین کے صدر یاسین لفرام نے کہا کہ انہیں ہتھیاروں کے زور پر دھمکایا گیا اور یہ کسی جمہوری ملک کے شایانِ شان رویہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا

اطالوی صحافی ساویریو توماسی کے مطابق دوائیں روک لی گئیں اور کارکنوں کو بندر کی طرح سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گرتا تھنبرگ، نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا اور یورپی ارکان پارلیمنٹ سمیت متعدد افراد کو تحقیر اور مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور صحافی لورینزو ڈی آگوسٹینو نے بتایا کہ ان کی رقم اور سامان چھین لیا گیا، کتے چھوڑ کر ڈرایا گیا اور فوجیوں نے ہتھیاروں کے لیزر پوائنٹر قیدیوں پر ڈالے تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے۔

اطالوی کارکن پاؤلو دے مونتیس نے کہا کہ انہیں گھنٹوں قیدیوں کی وین میں باندھے رکھا گیا، زانو کے بل بٹھائے رکھا اور چہرہ اوپر اٹھانے پر سر پر مارا گیا۔

ملائیشیا کی معروف گلوکار بہنیں ہیلیزا حلمی اور حضوانی حلمی نے بھی اپنے تلخ تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو بیت الخلا کے پانی پینے پر مجبور کیا گیا، کئی لوگ بیمار پڑ گئے لیکن اسرائیلی حکام نے کہا کہ جب تک مرے نہیں، یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔
ہیلیزا نے کہا کہ انہیں تین دن تک کھانے کو کچھ نہیں دیا گیا اور صرف ٹوائلٹ کا پانی پینے پر اکتفا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے: صمود فلوٹیلا کے گرفتار پاکستانی کارکنوں کی واپسی کے لیے کوششیں کررہے ہیں، دفتر خارجہ

کارکنوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گریٹا تھنبرگ کو زمین پر گھسیٹا گیا، اسرائیلی جھنڈے کو زبردستی چومنے پر مجبور کیا گیا اور اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان بیانات کو بے بنیاد جھوٹ قرار دیا جبکہ انتہاپسند وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارکنوں کے ساتھ سخت سلوک پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر دہشتگردوں کے سہولتکار ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل صمود فلوٹیلا غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل صمود فلوٹیلا فلسطین صمود فلوٹیلا نے کہا کہ کہ انہیں گیا اور کیا گیا

پڑھیں:

ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔

(جاری ہے)

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔

اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV

— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک