لداخ تشدد اور سونم وانگچک کی گرفتاری پر سپریم کورٹ کی مودی حکومت کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا، لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پانچ افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوگئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج لداخی تعلیم کے اصلاح کار اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا، جس میں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حالیہ حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مودی حکومت، لداخ انتظامیہ اور جودھ پور جیل سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ معاملہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ کے سامنے آیا۔ انگمو نے این ایس اے کے تحت ماحولیاتی کارکن کی حراست کو چیلنج کیا اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو سخت این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پانچ افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوگئے تھے۔
سپریم کورٹ نے مودی حکومت اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ انتظامیہ کو سونم وانگچک کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ حراست سے متعلق دستاویزات اور حکم کی کاپی درخواست گزار وانگچک کی اہلیہ کو فراہم کی جائے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ سونم وانگچک کو جیل میں مناسب طبی امداد فراہم کی جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ 14 اکتوبر مقرر کی ہے۔ وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے اپنی درخواست میں کہا کہ سونم وانگچک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں کسی قانونی عمل کے مطابق گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ سپریم کورٹ فوری طور پر مداخلت کرے اور سونم وانگچک کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ان کے تحفظ اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے پہلے گیتانجلی انگمو نے صدر دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھا تھا۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ میرے شوہر کو گزشتہ 4 سال سے عوام کے مفادات کے لئے کام کرنے پر بدنام کیا جا رہا ہے، وہ کبھی کسی کے لئے خطرہ نہیں بن سکتے۔ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو لداخ میں پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بینچ کے سامنے عرضی گزار کی نمائندگی سینئر وکیل کپل سبل اور وویک تنکھا نے کی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی اگلی سماعت آئندہ منگل کو مقرر کی ہے۔ سماعت کے دوران، سبل نے دلیل دی کہ ان کے مؤکل کو ان کے شوہر کی نظربندی کی وجوہات کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا اور نظر بندی کے حکم کی عدم موجودگی میں، وہ حکومت کے ساتھ نمائندگی نہیں کر سکتی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے حراست میں لیا کا درجہ دینے وانگچک کی گیا تھا
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :