دفتر خارجہ نے مشتاق احمد کی رہائی کی کوششوں میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اسرائیلی حراست سے رہائی کے معاملے پر دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، اردن کے دارالحکومت عمّان میں موجود اپنے سفارت خانے کے ذریعے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ برادر ملک اردن کی حکومت کے قیمتی تعاون سے ہمیں امید ہے کہ یہ عمل آئندہ چند روز میں کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم اردن کی برادر حکومت کے مثالی تعاون اور فراخدلانہ حمایت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان غزہ کی طرف جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں سوار تھے، اسرائیلی فورسز نے حملہ کرکے مشتاق احمد سمیت بیشتر افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ قافلے میں شامل درجنوں افراد کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم مشتاق احمد سمیت دیگر افراد اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ مشتاق احمد
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :