فاشسٹ مودی کا نام نہاد "فیصلہ" اب دھوکے اور فریب کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، غاصب مودی کی جابرانہ پالیسیوں نے کشمیر کو کھلی جیل اور انسانی حقوق کے قبرستان میں بدل دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا جب کہ نااہل اور فاشسٹ مودی کی  انتہا پسندی نے بھارت کے زیر تسلط علاقوں کو انتشار کی طرف دھکیل دیا۔ ظالم اور مکار مودی نے فریب دے کرآرٹیکل 370 منسوخ کر کے کشمیر میں اپنی آمریت قائم کی، فاشسٹ مودی کے 5 اگست کے دھوکے نے کشمیری عوام کے حقوق سلب کیے۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے مودی کی آمریت اور مکاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لہہ میں ہونے والے پرتشدد احتجاج پر جے کے این سی کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا "کچھ طبقوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ 5 اگست 2019ء کے فیصلے ان کے حق میں ہوں گے" آج انہیں پتا چلا ہے کہ 2019ء کے فیصلے نہ صرف کشمیری بلکہ لداخ کے عوام کے بھی خلاف تھے۔ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ 2019ء کے فیصلے نے کشمیری عوام سے ان کے اختیارات اور فیصلہ کرنے کا حق چھین لیا، سب سے بڑے مجرم وہ لوگ ہیں جو دہلی میں اقتدار میں ہیں اور عوام کی آواز سنے بغیر فیصلے کرتے ہیں،  اب ہمارے جائز مطالبات اور جدوجہد کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ فاشسٹ مودی کا نام نہاد "فیصلہ" اب دھوکے اور فریب کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، غاصب مودی کی جابرانہ پالیسیوں نے کشمیر کو کھلی جیل اور انسانی حقوق کے قبرستان میں بدل دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فاشسٹ مودی نام نہاد مودی کی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم