مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر کے ہنگاموں نے آمر مودی کی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش کر دیا جب کہ نااہل اور فاشسٹ مودی کی انتہا پسندی نے بھارت کے زیر تسلط علاقوں کو انتشار کی طرف دھکیل دیا۔
ظالم اور مکار مودی نے فریب دے کرآرٹیکل 370 منسوخ کرکے کشمیر میں اپنی آمریت قائم کی، فاشسٹ مودی کے 5 اگست کے دھوکے نے کشمیری عوام کے حقوق سلب کیے۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے مودی کی آمریت اور مکاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
لہہ میں ہونے والے پرتشدد احتجاج پر جے کے این سی کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا؛ "کچھ طبقوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلے ان کے حق میں ہوں گے" آج انہیں پتا چلا ہے کہ 2019 کے فیصلے نہ صرف کشمیری بلکہ لداخ کے عوام کے بھی خلاف تھے۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ 2019 کے فیصلے نے کشمیری عوام سے ان کے اختیارات اور فیصلہ کرنے کا حق چھین لیا، سب سے بڑے مجرم وہ لوگ ہیں جو دہلی میں اقتدار میں ہیں اور عوام کی آواز سنے بغیر فیصلے کرتے ہیں، اب ہمارے جائز مطالبات اور جدوجہد کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
فاشسٹ مودی کا نام نہاد "فیصلہ" اب دھوکے اور فریب کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، غاصب مودی کی جابرانہ پالیسیوں نے کشمیر کو کھلی جیل اور انسانی حقوق کے قبرستان میں بدل دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مودی کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔