اقوام متحدہ, مقبوضہ کشمیر میں مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
رائع کے مطابق سیمینار میں اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر نے شرکت کی، جنہوں نے ثقافتی ہم آہنگی کی بھارت کی طویل مدتی پالیسیوں کو "بھارتی ثقافتی یلغار” قرار دیا جو 5 اگست 2019ء کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ مسلم کانگریس اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیراہتمام جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کیلئے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سیمینار میں اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر نے شرکت کی، جنہوں نے ثقافتی ہم آہنگی کی بھارت کی طویل مدتی پالیسیوں کو "بھارتی ثقافتی یلغار” قرار دیا جو 5 اگست 2019ء کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ مقررین میں غلام محمد صفی، ڈاکٹر مصطفی بلریم، ڈاکٹر رابرٹ فتینا، میری سکلی، شمولی ہوگ اور الطاف حسین وانی شامل تھے۔ مقررین نے زور دیا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو سلب کیا ہے بلکہ منظم طریقے سے کشمیریوں کی ثقافتی اور مذہبی حقوق کو بھی سلب کیا گیا ہے۔ قابض انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں اہم تاریخی کتابوں پر پابندی اور میڈیا پر قدغن، مذہبی رسومات کی ادائیگی پر پابندیاں، ثقافتی اور مذہبی مقامات کو نظر انداز کرنے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے آبادی کے تناسب کو بگاڑ رہی ہے۔
مقررین نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث بھارتی قابض انتظامیہ اور اس کی افواج کے احتساب پر زور دیا اور انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی کہ وہ حقائق کی جانچ کیلئے ایک آزاد بین الاقوامی طریقہ کار واضع کرے، انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں سے کرائی جائے اور تاریخی کتابوں پر عائد پابندی اٹھائی جائے، ثقافتی اور مذہبی مقامات کی بحالی اور کشمیریوں کی ثقافتی یادداشت کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرے۔ مقررین نے زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کے کسی بھی پائیدار حل کے لیے کشمیریوں کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ثقافتی اور مذہبی حقوق کو حقوق کی
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان