رائع کے مطابق سیمینار میں اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر نے شرکت کی، جنہوں نے ثقافتی ہم آہنگی کی بھارت کی طویل مدتی پالیسیوں کو "بھارتی ثقافتی یلغار” قرار دیا جو 5 اگست 2019ء کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ مسلم کانگریس اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیراہتمام جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کیلئے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سیمینار میں اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر نے شرکت کی، جنہوں نے ثقافتی ہم آہنگی کی بھارت کی طویل مدتی پالیسیوں کو "بھارتی ثقافتی یلغار” قرار دیا جو 5 اگست 2019ء کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ مقررین میں غلام محمد صفی، ڈاکٹر مصطفی بلریم، ڈاکٹر رابرٹ فتینا، میری سکلی، شمولی ہوگ اور الطاف حسین وانی شامل تھے۔ مقررین نے زور دیا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو سلب کیا ہے بلکہ منظم طریقے سے کشمیریوں کی ثقافتی اور مذہبی حقوق کو بھی سلب کیا گیا ہے۔ قابض انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں اہم تاریخی کتابوں پر پابندی اور میڈیا پر قدغن، مذہبی رسومات کی ادائیگی پر پابندیاں، ثقافتی اور مذہبی مقامات کو نظر انداز کرنے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے آبادی کے تناسب کو بگاڑ رہی ہے۔

مقررین نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث بھارتی قابض انتظامیہ اور اس کی افواج کے احتساب پر زور دیا اور انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی کہ وہ حقائق کی جانچ کیلئے ایک آزاد بین الاقوامی طریقہ کار واضع کرے، انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں سے کرائی جائے اور تاریخی کتابوں پر عائد پابندی اٹھائی جائے، ثقافتی اور مذہبی مقامات کی بحالی اور کشمیریوں کی ثقافتی یادداشت کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرے۔ مقررین نے زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کے کسی بھی پائیدار حل کے لیے کشمیریوں کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ثقافتی اور مذہبی حقوق کو حقوق کی

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا