ایران میں دستی بم حملہ، پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار شہید، تین زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
تہران: ایران کے مغربی صوبے کردستان میں ہونے والی مسلح جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار شہیداور تین زخمی ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران کے شہر حزب اللہ اسکوائر کے قریب ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر کچھ مسلح افراد نے حملہ کردیا،دہشت گردوں نے اچانک چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ دھماکے کے فوراً بعد کچھ دیر فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جھڑپ تقریباً ایک گھنٹے بعد ختم ہوئی تاہم حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بیت المقدس یونٹ کے ترجمان نے کہاکہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت علی رضا ولی زاده اور ایوب شیری کے نام سے ہوئی ہے جبکہ تین دیگر اہلکار شدید زخمی ہیں جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور جلد ہی ان حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
خیال رہےکہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، ایران کے مغربی اور جنوبی صوبوں میں علیحدگی پسند کرد اور بلوچ تنظیمیں کئی برسوں سے مسلح کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔
واضح رہے کہ کردستان اور سیستان بلوچستان ایران کے وہ علاقے ہیں جہاں نسلی اقلیتیں ریاست سے علیحدگی کی جدوجہد کر رہی ہیں جبکہ ایرانی حکومت ان کارروائیوں کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ان صوبوں میں سیکیورٹی آپریشنز میں اضافہ کر چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔