عمران خان کی ایکس اکاؤنٹ پوسٹس کو غیر قانونی قرار دیکر ہٹانے کی درخواست پر اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایکس اکاونٹ پوسٹس کو غیر قانونی قرار دیکر ہٹانے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے جواب طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار شہری غلام مرتضیٰ کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور بانی پی ٹی آئی کی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس ہٹانے اور بلاک کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو2 ہفتوں میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل سمیت دیگر فریقین سے بھی جواب طلب کرلیا گیا۔
درخواست میں دوران قید ایکس اکاؤنٹ سے مبینہ انتشاری پوسٹس ہٹانے اور ان کو پھیلانے سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔