پی ایس ایل کا اگلا سیزن 2 اضافی ٹیموں کیساتھ اپریل مئی میں ہونیکا امکان
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) آئندہ سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا انعقاد رمضان کے بعد اپریل اور مئی میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ بھی متوقع ہے۔ اس صورت میں پی ایس ایل 11 کا شیڈول انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے متصادم ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز کے درمیان کئی معاملات ابھی تک زیر التواء ہیں، اور تاحال کوئی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی جس میں اگلے ایڈیشن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہو۔
فروری اور مارچ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے باعث پی ایس ایل ان مہینوں میں کرانا ممکن نہیں ہے۔ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز شیڈول ہے، جس کے بعد پاکستان بنگلادیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کھیلے گا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پی ایس ایل کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی ہوں گے۔ بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد وائٹ بال سیریز مئی کے بعد کھیلی جائے گی۔
اس کے علاوہ، پاکستان کی ٹیم بنگلادیش میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز جبکہ زمبابوے کے خلاف بھی تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔ اسی مصروف شیڈول کو مدِنظر رکھتے ہوئے پی سی بی اگلے سال اپریل اور مئی میں پی ایس ایل کے انعقاد کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں دو نئی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل ٹی ٹوئنٹی کے بعد
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔