پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں وزارت آئی ٹی سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ حکام نے فیڈرل گورنمنٹ ڈیٹا سینٹر کے مقاصد پورے نہ ہونے کے معاملے پر بتایا کہ 450 ملین کی لاگت سے 3 سال میں ڈیٹا سینٹر مکمل ہونا تھا۔
آڈٹ حکام کے مطابق 10 سال گزرنے کے باوجود ڈیٹا سینٹر کے مقاصد پورے نہ ہوسکے۔
سیکریٹری آئی ٹی نے اجلاس میں بتایا کہ یہ ڈیٹاسینٹر نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر میں بنانا تھا ، اس پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ مئی 2014 میں یہ پراجیکٹ مکمل طور پر بند کردیا گیا۔
سیکریٹری آئی ٹی نے اجلاس میں بتایا کہ پی سی فور پلاننگ کمیشن بھیجا جاچکا ہے، وہاں اسے دیکھنے میں ڈیڑھ سال لگ جاتا ہے۔
پلاننگ کمیشن کے حکام نے سوال کیا کہ آپ کو کس نے کہا کہ پی سی فور کو دیکھنے پر ڈیڑھ سال لگے گا؟
کمیٹی کے کنوینر نے پلاننگ کمیشن سے 15 دن میں پی سی ون سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔