پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی ایک عملی شکل ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی ایک عملی شکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امت مسلمہ اسلامی اقدار پر عمل کرکے کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد میں پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم یہاں ایک خاندان کی طرح جمع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلی بار 60 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب گئے تھے، اس کے بعد متعدد دورے کیے، تاہم حالیہ دورہ ریاض اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سعودی بھائیوں اور بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بے مثال محبت کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیر متزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، جو دونوں ممالک کی دوستی کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ کی تفصیلات
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی ایک عملی شکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان سعودی عرب شہباز شریف وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف دفاعی معاہدہ شہباز شریف کے درمیان کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔