وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی ایک عملی شکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امت مسلمہ اسلامی اقدار پر عمل کرکے کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد میں پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم یہاں ایک خاندان کی طرح جمع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلی بار 60 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب گئے تھے، اس کے بعد متعدد دورے کیے، تاہم حالیہ دورہ ریاض اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سعودی بھائیوں اور بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بے مثال محبت کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیر متزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، جو دونوں ممالک کی دوستی کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ کی تفصیلات

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی ایک عملی شکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان سعودی عرب شہباز شریف وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف دفاعی معاہدہ شہباز شریف کے درمیان کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری