بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کر لیا، تاکہ ملک کی سیاسی صورتِ حال اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ’اہم فیصلے‘ کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی پنجاب قیادت کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے، جو سیلاب زدگان کے لیے معاوضوں اور چولستان کینال منصوبے میں پانی کے حقوق جیسے معاملات پر شروع ہوئی تھی، سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی خاص طور پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیانات پر برہم ہے، حالانکہ اُن ( مریم نواز) کی جماعت (ن) لیگ وفاق میں بھی حکمران ہے۔پیپلز پارٹی کے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا‘
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید بتایا گیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 18 اکتوبر ہفتے کو سی ای سی کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کیا ہے۔بیان کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں ملکی سیاست سے متعلق اہم فیصلے ہوں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کا اجلاس
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔