وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری پر جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 24 میں سے 15 اداروں کی نجکاری کے عمل پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد اور اداروں کی پیشہ ورانہ استعداد میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے نجکاری کا عمل مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ نجکاری کے عمل میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ یہ عمل شفاف، موثر اور قومی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے سرکاری ادارے جو قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں یا غیرفعال ہیں، ان کی نجکاری میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارہ جاتی اور انتظامی پیچیدگیوں اور سرخ فیتے سے بچتے ہوئے نجکاری کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجکاری کے عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کی جائے گی اور اس کی پیش رفت پر باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سرکاری اداروں کی اندرونی صلاحیت بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت فوری اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نجکاری کے عمل کی نجکاری اداروں کی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ