تیز رفتار ٹرک نے 4 مزدوروں کو کچل ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: جڑانوالہ میں تھانہ بلوچنی کی حدود میں انتہائی افسوسناک حادثہ رونما ہوا ہے جس میں تیز رفتار منی ٹرک نے 4 مزدوروں کو کچل دیا۔
تفصیلات کے مطابق ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ بلوچنی کی حدود میں پیش آنے والے حادثے میں تین راہگیر مزدور موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق مزدوروں کی شناخت مزمل، فیصل اور تنویر کے نام سے ہوئی ہے۔
کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
اس سے قبل ایبٹ آباد میں ہزارہ موٹروے پر حادثہ پیش آیا تھا، ڈمپر نے گاڑی کو کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔
ہزارہ موٹر وے پر پیش آنے والے حادثے میں 2 خواتین بھی شامل ہیں، جاں بحق افراد گاڑی میں سوار تھے۔
حادثے میں جاں بحق افراد گاڑی میں سوار تھے، لاشیں حویلیاں ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں، پولیس حکام کے مطابق جاں بحق افراد کا تعلق گلگت بلتستان سے بتایا جارہا ہے۔
سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں
جبکہ نوشہرو فیروز میں قومی شاہراہ پرخوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، مرنے والوں میں 3 خواتین اور دو بچے بھی شامل تھے۔
جاں بحق ہونے والے 2 افراد کی شناخت غلام محمد جانوری اور علی احمد جانوری کے نام سے ہوئی تھی۔
نوشہرو فیروز پولیس کے مطابق جاں بحق 3 خواتین اور 2 بچوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی تھی، حادثے کے بعد فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔
لاہور :طب کے میدان میں بڑا سنگ میل عبور، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔