امیر بالاج قتل کا مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
لاہور:
امیر بالاج قتل کیس میں مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی سے پاکستان پہنچا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق طیفی بٹ کو دبئی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں قاضی نے طیفی بٹ سے پاکستان جانے سے متعلق سوال کیا۔ طیفی بٹ نے پاکستان جانے اور مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا۔
دبئی عدالت نے طیفی بٹ کو پنجاب پولیس کے حوالہ کر دیا، پنجاب پولیس کی ٹیم طیفی بٹ کو لے کر لاہور پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو مرکزی ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی تھی، طیفی بٹ کو دبئی میں ایک دعوت کے دوران ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے لاہور پولیس کی جانب سے ریڈ وارنٹ بھی جاری کروائے گئے تھے۔
طیفی بٹ بالاج قتل کے فوری بعد اسلام آباد سے گلاسکو روانہ ہوا تھا، لندن کا ویزا ختم ہونے پر طیفی بٹ ویزا رینیو کروانے کے لیے دبئی آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طیفی بٹ کو
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔