لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر 2025ء ) مذہبی جماعت کی طرف سے احتجاج کے اعلان کے بعد پارٹیکے مرکز کے باہر کارکنوں کی طرف سے نعرے بازی کی گئی جہاں پولیس کے ساتھ تصادم کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاقہ یتیم خانہ چوک کے قریب ٹی ایل پی کے مرکز کے باہر کارکنوں کے جمع ہونے کے بعد صورتحال خراب ہوئی اور شیلنگ شروع کردی گئی، جس کے بعد ٹی ایل پی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوگیا اور چوک یتیم خانہ لاہور میں حالات کشیدہ ہوگئے، شہر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظرپنجاب یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا اور انتظامیہ نے پنجاب یونیورسٹی کے آج ہونے والے ایل ایل بی امتحانات ملتوی کردیئے۔

ادھر وفاقی دارالحکومت میں مذہبی جماعت تحریک لبیک کی طرف سے احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں کو مختلف مقامات سے بند کیا گیا ہے، لاہور تا اسلام آباد موٹر وے اور جی ٹی روڈ بھی بند ہے، لاہور میں اورنج لائن ٹرین معطل کردی گئی، محکمہ داخلہ نے پنجاب بھر میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی، عوامی مقامات، گلی، محلوں اور کھلے میدان میں 4 یا 4 سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی، نماز، شادی، جنازہ، دفاتر اور عدالتوں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا، صوبہ بھرمیں اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی لگادی گئی۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں پی ٹی اے کو مراسلہ بھیجوایا گیا، پی ٹی اے کو بھیجے جانے والے مراسلے میں جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات 12 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا کہا گیا، اسی طرح لاہورسے اسلام آباد موٹروے بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی، بابوصابو اور ٹھوکرنیاز بیگ سے موٹروے پر انٹری بند کردی گئی، اسلام آباد میں موٹروے پر آنے والے تمام راستے بند ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ جی ٹی روڈ بھی مختلف مقامات سےٹریفک کیلئے بند کردی گئی، مریدکے، چناب نگر، گجرات سے جی ٹی روڈ بند ہے، انتظامیہ نے جہلم پل، چکوال موڑ بھی ٹریفک کیلئے بند کردی، لاہور میں اورنج لائن ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کی جاچکی ہے، گوجرانوالہ جی ٹی روڈ ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند ہے، سادھوکی، کامونکی ٹول پلازہ اور چن داقلعہ، چوک عزیز کراس چوک فلائی اوور بھی بند کر دیا گیا، ایکسپریس ہائی وے اور سیالکوٹ کی طرف آنے جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔

بتایا جارہا ہے کہ اسلام آباد روات ٹی چوک سے اسلام آباد اور مری سے فیض آباد کی جانب آنے والے راستوں کو بند کیا گیا ہے، اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک ڈائیورژن پلان بھی جاری کیا، اسلام آباد سے لاہور تک کے لیے موٹروے اور جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے، حفاظتی نقطہ نگاہ سے جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو سروس کو بھی معطل کردیا گیا، اسلام آباد کے مختلف روٹس پر چلنے والی الیکٹرک بس بھی سڑکوں پر نظر نہیں آرہی، جڑواں شہروں کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان نہیں کیا تاہم مختلف شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹریفک کیلئے بند اسلام آباد جی ٹی روڈ نے والے کی طرف کے بعد کے لیے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی