کابل کی خودمختار علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، افغانستان کا پاکستان پر الزام WhatsAppFacebookTwitter 0 10 October, 2025 سب نیوز

(آئی پی ایس )افغانستان کی طالبان حکومت نے دارالحکومت میں دو دھماکوں کے بعد پاکستان پر کابل کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان پہلے بھی اسلام آباد پر سرحدی حملوں کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ انہوں نے اپنی سرزمین پر دارالحکومت میں کارروائی کا الزام پاکستان پر لگایا ہے اور اسے ایک غیرمعمولی کارروائی قرار دیا ہے۔کابل میں وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، ڈیورنڈ لائن کے قریب پکتیکا کے علاقے مارغی میں ایک شہری مارکیٹ پر بمباری کی اور کابل کے خودمختار علاقے کی بھی خلاف ورزی کی۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ افغانستان اور پاکستان کی تاریخ میں ایک بے مثال، پرتشدد اور گھنانا فعل ہے۔بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کابل کی حدود کی خلاف ورزی کس طرح کی گئی لیکن اے ایف پی کے صحافیوں نے جمعرات کی شب دیر گئے دارالحکومت کابل میں دو زو دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔مارغی کے رہائشیوں نے بتایا کہ استعمال شدہ ہتھیار فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ پر بمباری کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ان کارروائیوں کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوئے تو اس کے نتائج کی ذمہ دار پاکستانی فوج ہو گی۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے مشرقی پڑوسی اور حریف انڈیا کا اپنا پہلا دورہ کیا۔ ان کے دورے کے دوران نئی دہلی نے اعلان کیا کہ وہ کابل میں اپنے مشن کو مکمل سفارت خانے میں اپ گریڈ کر رہا ہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان سے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا کابل میں حملوں کا ذمہ دار پاکستان ہے تو انہوں نے براہ راست جواب نہیں دیا۔

جنرل احمد شریف چوہدری نے پشاور شہر میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستانیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، وہ کیے جائیں گے۔اگست 2021 میں ہمسایہ ملک افغانستان سے امریکی زیرقیادت فوجیوں کے انخلا اور طالبان حکومت کی واپسی کے بعد سے پاکستان کے سرحدی صوبے خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) افغان طالبان سے ایک الگ لیکن منسلک گروپ ہے جو پاکستان کی فوج پر حملوں میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ رواں ہفتے سرحدی علاقوں میں کم از کم 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔اسلام آباد نے بارہا کابل حکومت پر ایسے عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے جو پاکستانی سرزمین پر بلاامتیاز حملے کرتے ہیں۔ ان الزامات کی طالبان حکومت تردید کرتی آئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینئر سفارت کار طاہر حسین اندرابی کو نیا ترجمان دفتر خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ سینئر سفارت کار طاہر حسین اندرابی کو نیا ترجمان دفتر خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایتھوپیا کے پاکستان میں سفیر جمیل بیکر عبدللہ کی الوداعی ملاقات جواب دہی کے بغیر امن ایک سراب بن کر رہ جاتا ہے،پاکستان کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی، نوبیل انعام پر وائٹ ہا ئو س برہم جتھوں کی سیاست کے ذریعے مطالبات منوانے کی کوئی گنجائش نہیں: حکومت جنگ بندی کے بعد اسرائیلی انخلا، بے گھر فلسطینی تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹنے لگے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی خلاف ورزی کی پاکستان پر کابل کی کی گئی

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی