UrduPoint:
2026-06-03@07:23:54 GMT

بھارت کا افغانستان میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

بھارت کا افغانستان میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 اکتوبر 2025ء) طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور افغانستان کے مابین یہ ملاقات اولین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے جمعے کے روز کہا کہ بھارت افغانستان کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور تجارت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کابل کی حمایت جاری رکھے گا۔

جے شنکر نے افغانستان کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت سے بھارت کی اصولی وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے مخاطب ہو کر کہا، ''ہمارے درمیان قریبی تعاون نہ صرف آپ کی قومی ترقی میں مددگار ہے بلکہ علاقائی استحکام اور مضبوطی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی پابندیوں کا شکار امیر خان متقی جمعرات کو نئی دہلی پہنچے تھے۔

(جاری ہے)

یہ دورہ روس میں افغانستان سے متعلق بین الاقوامی اجلاس میں ان کی شرکت کے بعد ہوا، جس میں چین، بھارت، پاکستان اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے بھی شامل تھے۔ بھارت کی طالبان سے تعلقات میں حکمت عملی

یہ اقدام بھارت اور طالبان کے زیراقتدار افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر دشمنی رہی ہے۔

طالبان حکومت عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے کی خواہاں ہے جبکہ وہ بھارت، پاکستان اور چین جیسے علاقائی حریفوں کے اثر و رسوخ کا توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

بھارت کے خارجہ سیکرٹری وکرم مسری نے جنوری میں دبئی میں متقی سے ملاقات کی تھی اور بھارت کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے اپریل میں کابل کا دورہ کیا تھا تاکہ سیاسی اور تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کا طالبان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر یہ رابطہ دراصل نئی دہلی کی حکمت عملی کی نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت پر کیا گیا، جب افغانستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی نمایاں ہے، خاص طور پر افغان مہاجرین کی واپسی اور سرحدی تنازعات جیسے موضوعات پر۔

بھارت اور طالبان کا ماضی

جب طالبان چار سال قبل کابل پر قابض ہوئے تھے تو بھارتی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ عمل پاکستان کے حق میں ہو گا اور کشمیر میں عسکریت پسندوں کو تقویت ملے گی۔

تاہم بھارت نے اس کے باوجود طالبان کے ساتھ رابطے جاری رکھے اور سن 2022 میں کابل میں اپنا ایک تکنیکی مشن قائم کیا، جس میں توجہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ترقیاتی تعاون پر مرکوز رہی۔ طالبان کی بین الاقوامی سطح پر تنہائی

افغان طالبان نے کئی ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت کی ہے اور چین اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں، تاہم خواتین پر پابندیوں کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر نسبتاﹰ تنہا ہیں۔

سابق بھارتی سفیر گوتم مکھوپادھیا کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان یہ رابطے طالبان حکومت کی قانونی شناخت کی ضمانت نہیں بلکہ داخلی اصلاحات کے لیے مثبت اقدامات کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افغانستان کے طالبان کے بھارت اور ممالک کے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی