data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھنے کی بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ دہشت گردی صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، عدلیہ اور حکومت کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔

جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا مگر آج بھی اس کے کئی نکات محض کاغذوں تک محدود ہیں،  دہشت گردوں سے مذاکرات کے حامی بیانیے نے دہشت گردوں کے حوصلے بلند کیے اور کئی گروہوں کو ازسرِنو منظم ہونے کا موقع دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 2024 میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 500 سے زائد آپریشنز کیے گئے جبکہ 2025 میں اب تک 10 ہزار سے زائد کارروائیاں ہو چکی ہیں، جن میں غیر ملکی دہشت گردوں کی ہلاکت کی تعداد گزشتہ دس برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے،  70 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے، جو گورننس کے خلا اور عدالتی نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ سیاسی حلقے اور مجرمانہ نیٹ ورکس دہشت گردوں کے سہولت کار بن چکے ہیں، ہم اپنے خون سے گورننس کے خلا کو پُر کر رہے ہیں لیکن یہ طویل المیعاد حل نہیں، بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزیاں کھلے عام ہو رہی ہیں۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ دہشت گردوں کو سزا دلانے کے لیے مؤثر قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ اگر عدالتیں دہشت گردوں کو چھوڑتی رہیں تو ان کا نیٹ ورک ختم نہیں ہوگا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے متعلق سوال پر جنرل احمد شریف نے کہا کہ فوج میں احتساب کا نظام موجود ہے، اگر الزامات ثابت ہوئے تو سزا ضرور ہوگی، چاہے تاخیر ہو۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ فوج کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے اور عوام سے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے متحد رہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس دہشت گردی کے ایس پی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔

مزید پڑھیں

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔

دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ