Islam Times:
2026-07-24@03:48:26 GMT

6 ہزار امدادی ٹرک غزہ میں داخلے کے منتظر

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

6 ہزار امدادی ٹرک غزہ میں داخلے کے منتظر

اپنے ایک انٹرویو میں فلپ لازارینی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران ہمارے 170 سے زائد اہلکار جاں بحق ہوئے۔صورتحال ہر لمحے بدل رہی ہے، اسلئے غزہ کی پٹی سے ملنے والی تمام سرحدی راہداریوں کو فوری طور پر کھول دینا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد، فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے UNRWA کے کمشنر جنرل "فلپ لازارینی" نے اعلان کیا کہ وہ اس پٹی میں فوری امداد بھیجنے کے لئے تیار ہیں۔ فلپ لازارینی نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ UNRWA کے پاس غزہ میں داخلے کے لئے 6,000 امدادی ٹرک تیار کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بھی وہ ایک لمحے کے لئے چین سے نہیں بیٹھے۔ غزہ کی پٹی میں ہمارے 12,000 کارکنان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ہم نے جنگ کے پہلے دن سے ہی اپنے میدانی کام بند نہیں کئے۔ فلپ لازارینی نے کہا کہ UNRWA کے کارکن غزہ کی پٹی میں انسان دوست امداد کی تقسیم شروع کرنے کے اجازت نامے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک اور ادویات سمیت ہر چیز کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ہمارے 170 سے زائد اہلکار جاں بحق ہوئے۔صورت حال ہر لمحے بدل رہی ہے اور غزہ کی پٹی سے ملنے والی تمام سرحدی راہداریوں کو فوری طور پر کھول دینا چاہئے۔

آخر میں اقوام متحدہ کے اس عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل، گزشتہ سال سے ایسے قوانین نافذ کر رہا ہے جو UNRWA کے کارکنوں اور صیہونیوں کے درمیان ہم آہنگی میں رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب مقامی فلسطینی ذرائع نے آج دوپہر کو بتایا کہ ہزاروں فلسطینی مہاجرین صلاح الدین اور الرشید سے ہوتے ہوئے غزہ جا رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے خاندان اور رہائشیوں کو اپنے گھروں اور محلوں کی تباہی کے مناظر دیکھنے پڑ رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل نے غزہ شہر کے وسیع حصے کو مکمل طور پر مسمار کر دیا۔ واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کے مکینوں کی اپنے گھروں کو واپسی وہ رہی ہے۔ مصر میں ہونے والے جنگ بندی کے اس واقعے کی اسرائیلی کابینہ نے جمعہ کی صبح کو منظوری دی۔ یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مصر کے شرم الشیخ میں چار دن کے غیر مستقیم مذاکرات کے بعد حاصل ہوا، جس میں انقرہ، قاہرہ اور دوحہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا جب کہ امریکہ نے نگرانی کی۔ اس معاہدے میں اسرائیلی و فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فلپ لازارینی غزہ کی پٹی جنگ کے کے لئے کہ جنگ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک