پاک فوج نے کالعدم ٹی ٹی کے خارجی ملک نعیم کے ٹریننگ کیمپ کو تباہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی جارحیت کا جواب بھرپور انداز سے جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے پولسین پوسٹ کے مدمقابل کالعدم ٹی ٹی پی کے ملک نعیم کے ٹریننگ کیمپ کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
پاک-افغان جھڑپ/ کرم سیکٹر اپڈیٹ
سکیورٹی فورسز نے پولسین پوسٹ کے مد مقابل کالعدم ٹی ٹی پی کے ملک نعیم کے ٹریننگ کیمپ کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا ۔ سیکیورٹی ذرائع pic.
— The Khyber Chronicles (@TKCkhyber) October 14, 2025
اس سے قبل پاک فوج نے افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کردی ہیں، افغان طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں پوسٹوں پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی شدید جوابی کارروائی کے دوران طالبان نے ایک بارڈر پوسٹ پر سفید جھنڈا لہرا دیا، اس کے بعد طالبان رجیم کے کارندے پوسٹ خالی کرکے فرار ہوگئے۔
واضح رہے کہ افغان طالبان نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں پاکستان کی حدود میں بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
اس سے قبل 11 اور 12 اکتوبر کی رات کو افغانستان نے پاکستان کی حدود میں فائرنگ کی تھی، جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 200 سے زیادہ افغان فوجی اور خوارج ہلاک ہو گئے تھے۔
پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائےگی، اور بھرپور جواب دیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان کو جواب پاک فوج ٹریننگ کیمپ تباہ کالعدم ٹی ٹی پی وی نیوزذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان کو جواب پاک فوج ٹریننگ کیمپ تباہ کالعدم ٹی ٹی پی وی نیوز افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی ٹریننگ کیمپ پاک فوج
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ
افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن گئی جب کہ واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ ایک بڑے عالمی پیٹرن کا حصہ دکھائی دیتاہےجہاں افغان نژاد نیٹ ورکس دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔
افغان نیٹ ورکس یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیل چکے ہیں جو کہ افغانستان کا عدم استحکام اب وہاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں، افغان طالبان رجیم صرف افغانستان کے لئے نہیں بلکہ پورے دنیا کی سیکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب رحمان اللہ لاکانوال نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق رحمان اللہ 2021 میں آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکہ آیا تھا۔
سی این این اس مشتبہ شخص نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی، جو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کر لی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق؛ امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں ہیں، یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے ملک میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کو افغان پاسپورٹ جاری کئے۔
یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز اسٹیڈیز نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کے دہشتگرد گروہوں سے بڑھتے تعلقات داخلی استحکام اور پڑوسی ممالک کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق؛ افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے، پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پہلے ہی افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کیلئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا ہے، پاکستان بارہا یہ کہ چکا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشتگرد تنظیمیں پنپ رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں بارہا کہہ ہے کہ امریکی ساکھ کے ہتھیار اور اسلحہ کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں ایک وار اکانومی جنم لے چکی ہے جس کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سامان چھوڑا، امریکی انخلاء کے بعد ہتھیاروں کی افغانستان میں موجودگی بھی بہت بڑادہشتگردی کا محرک ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہتھیار بیچے جا چکے ہیں یا دہشتگرد گروہوں کو اسمگل کر دیے گئے ہیں، اقوامِ متحدہ کا ماننا ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار القاعدہ کے اتحادی گروہوں کے ہاتھوں میں بھی پہنچ چکے ہیں۔