Jasarat News:
2025-11-30@12:58:20 GMT

’’736 دن بعد آزادی: دنیا بدلی یا کہانی؟‘‘

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بن چکی ہے۔ دو سال، یعنی 736 دن بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اگرچہ امن کی جانب ایک امید افزا قدم سمجھی جا رہی ہے، مگر تل ابیب اور یروشلم میں عوامی غصے کا لاوا پھٹ پڑا ہے۔ اسرائیلی شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ معاہدہ آج ممکن تھا تو پہلے کیوں نہیں؟ یہ احتجاج محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہے، جس نے نیتن یاہو کی حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حماس نے ریڈ کراس کی نگرانی میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، جبکہ 28 لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی گئیں۔ اس کے بدلے میں 1,716 فلسطینی قیدیوں کو آزادی ملی، جن میں خواتین، بچے اور عمر قید کے اسیر شامل ہیں۔ اس تبادلے کے مناظر نہایت جذباتی تھے غزہ میں قیدیوں کا فقید المثال استقبال کیا گیا، جبکہ اسرائیل میں خوشی کے بجائے غصے اور بے چینی کی فضا چھا گئی۔ تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاجی نعروں کی گونج سنائی دی۔ عوام نے وزیر ِ اعظم نیتن یاہو سے سوال کیا: ’’یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہوا؟ اگر معاہدہ پہلے ہو جاتا تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں‘‘۔ نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی اور شدید عوامی دباؤ نے اسرائیلی حکومت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔

غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ایلچیوں جیرڈ کْشنر اور اسٹیو وٹکوف کا کردار ایک بار پھر زیر ِ بحث ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی ’’تاخیری پالیسی‘‘ کی حمایت کی اور امن مذاکرات کو ذاتی شہرت کا ذریعہ بنایا۔ عوامی دباؤ کے سامنے ٹرمپ کے نمائندے بھی تنقید سے نہ بچ سکے۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریر میں انہوں نے کہا کہ ’’غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے، یہ ایک نیا آغاز ہے‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ اختتام ہے یا محض ایک وقفہ؟ کیونکہ اسی روز اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس دوہرے رویے نے عالمی برادری کو شکوک میں ڈال دیا ہے کہ کیا اسرائیل امن چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ شرم الشیخ میں ہونے والے امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، مصر اور قطر کے سربراہان نے دستخط کیے۔ وزیر ِ اعظم شہباز شریف کی شرکت نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو ایک بار پھر نمایاں کیا کہ خطے کا پائیدار امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، مگر ان کا بیان واضح تھا: ’’اب وقت ہے کہ فریقین اپنے وعدوں پر عمل کریں، ورنہ یہ امن وقتی ثابت ہوگا‘‘۔ گوتریس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشوں کو عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا جائے۔

غزہ میں رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے مناظر آنکھوں کو نم کر دینے والے تھے۔ نصر اسپتال کے صحن میں جب رہائی پانے والی خواتین نے اپنے بچوں کو گلے لگایا تو یہ منظر انسانی احساسات کی گہرائی کا مظہر تھا۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا یہ رہائی پائیدار امن کی ضامن ہے؟ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ ’’یہ تبادلہ ایک انسانی بنیاد پر کیا گیا، نہ کہ اسرائیل کے دبائو پر‘‘۔ حماس کے ترجمان کے مطابق، اگر اسرائیل دوبارہ جارحیت کرے تو فلسطینی مزاحمت دوبارہ سر اٹھائے گی۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی سیاست میں ایک نیا بحران جنم لے چکا ہے۔ نیتن یاہو کو نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی جانب سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ احتجاج ’’سیاسی زوال‘‘ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کی تقریر کے دوران دو ارکان کا فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی معاشرہ اندر سے منقسم ہو چکا ہے۔ ایک طبقہ مسلسل جنگ اور قبضے کی پالیسی کا حامی ہے جبکہ دوسرا امن، انصاف اور فلسطینی ریاست کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے۔

غزہ امن معاہدے کے باوجود مغربی ممالک کے رویے میں تضاد برقرار ہے۔ امریکا اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرتا رہتا ہے، جبکہ یورپی ممالک انسانی حقوق کے بیانات تک محدود ہیں۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بجا طور پر کہا کہ ’’ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ امن منصوبہ صرف غزہ تک محدود ہے، فلسطینی ریاست کے قیام پر ابہام موجود ہے‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں مسئلہ فلسطین کو انصاف کی بنیاد پر حل نہیں کرتیں، تب تک کوئی بھی امن معاہدہ عارضی ہوگا۔ یرغمالیوں کی رہائی کا انسانی پہلو سب سے اہم ہے۔ چاہے وہ اسرائیلی خاندان ہوں یا فلسطینی، دونوں نے اپنے پیاروں کو کھونے کا درد سہا ہے۔ غزہ میں تباہ حال عمارتوں اور یتیم بچوں کی چیخیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ایک فلسطینی ماں نے کہا، ’’میرے بیٹے کو 12 سال بعد واپس پایا ہے، مگر میرا گھر، میرا شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے‘‘۔ یہ جملہ کسی سیاسی نعرے سے زیادہ گہرا ہے۔ یہ اس جنگ کی اصل قیمت ہے جو طاقت، انا اور مفاد کے نام پر انسانیت سے وصول کی جا رہی ہے۔

736 دن بعد یرغمالیوں کی رہائی یقینا ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر یہ تب ہی پائیدار ثابت ہوگی جب انصاف کو فوقیت دی جائے گی۔ جنگ کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرے، قبضہ ختم کرے اور انسانی مساوات کے اصولوں پر عمل کرے۔ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن توپ و تفنگ سے نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں، تو انہیں طاقتور کے نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ غزہ میں قیدیوں کے تبادلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات اور انسانی ہمدردی سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ مگر اسرائیلی قیادت کی تاخیر، مغربی دنیا کی منافقت اور عالمی اداروں کی بے بسی نے اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب فیصلہ عالمی ضمیر کو کرنا ہے آیا وہ انصاف کے ساتھ کھڑا ہوگا یا مفاد کے ساتھ۔

محمد مطاہر خان سنگھانوی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام یرغمالیوں کی رہائی ایک بار پھر نیتن یاہو کے ساتھ

پڑھیں:

کہانی فلسطین کی

اسرائیل کا دفاعی نظام لوہے کی دیوار کی مانند مضبوط ہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی اور جس طرح دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیلی پروڈکٹس نے دنیا بھر کے ممالک میں اپنی شاخیں پھیلائیں، ان کی کامیابیاں جھنڈے گاڑتی گئیں۔

غالباً نہیں یقینا اس طرح کی باتیں چلتی ہی رہتیں لیکن سات اکتوبر 2023 کو اچانک ایسا ہوا کہ اسرائیل کے دفاعی نظام پرکاری ضرب لگی اور عیاں ہوگیا کہ اونچی دکان کے پھیکے پکوان ہیں۔

فلسطینی آزادی کے علم بردار حماس نے پیراگلائیڈنگ کے ذریعے گوریلا جنگجو، اسرائیل کے بقول ان کی ناقابل تسخیر زمین پر اتارے اور وہ کر دکھایا کہ جس سے دنیا دنگ رہ گئی۔

اسرائیلی عوام اپنی حکومت کی دفاعی ذمے داریوں کو شکست اور غصے کی نگاہ سے دیکھنے لگے، یہ طے پا گیا کہ لوہے کی دیوار میں دراڑ ڈالنے والے کمزور نہیں ہیں، انھوں نے باقاعدہ پلاننگ کی تھی اور مضبوط اعصابی جنگ کے لیے تیار لڑاکو کو زمین میں اتارا تھا۔

فلسطینی عوام پرجوش تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے نے حماس سے بدلہ لینے کے لیے ان کی جارحیت کو روکنے کے لیے اتحاد کیا اور پھر جو کیا وہ آج تک سب کے سامنے ہے۔

اس گوریلا وار کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا گیا تھا جسے روکنے کے لیے اسرائیل کی اپنی فوج ناکامی اور کسی حد تک ناکارہ بھی تھی لہٰذا بھرتی کے لیے دنیا بھر میں اشتہار بازی بھی کی دنیا سے فنڈز بھی اکٹھے کیے قلیل تعداد محصورین کو چھڑانے کے لیے جس طرح کے ڈرامے چلائے گئے وہ الگ۔

جس نظام پر اسرائیل نے پہاڑ جتنے اونچے ڈالرز خرچ کر کے دفاعی مینارے بنائے تھے وہ تو پہلے وار میں حماس نے چور چورکردیے تھے لیکن بعد کی کہانی اب بھی خون کی سیاہی سے لکھی جا رہی ہے۔

آج غزہ کے علاقوں میں بربادی، تباہی اور وحشتیں رو رو کر دنیائے عالم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں لیکن آج ہماری ان تک رسائی مشکل ہو رہی ہے، تین سال پہلے شروع ہونے والی سات ستمبر 2023 کی گوریلا وار، امریکا کی مداخلت سے جنگ بندی تک کی بات ہوئی بھی تو جھوٹا فسانہ، جھوٹی کہانی۔

لوگ خوش ہوئے، شادیانے بجے شکرانے ادا کیے، یہ بہت قلیل مدت تک کے لیے کہ یہ فلم کے پردے کی عمر سے بھی کم ثابت ہوا اور پھر سے وہی بمباری، آتشیں ہتھیار، گرفتاری اور تشدد جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

دنیا میں واویلا مچا تو فلم کی کہانی میں ذرا سکوت آیا اور پھر وہی بھونچال، وہی بربادی۔ کون ہے پوچھنے والا، ان کا گریبان پکڑنے والا کہ یہ کیسی جنگ بندی تھی؟

اسرائیلی فوج کے ترجمان نادو شوشانی کا غزہ پر ظلم و ستم کے عذاب کے بارے میں کہنا تو یہ ہے کہ ’’ مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک اڑسٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ (یہ گنتی اکتوبر کے مہینے کی ہے۔)

اسرائیلی اس بدترین دہشت گردی کو انجام دینے کے باوجود اب بھی حماس کے وجود سے خائف ہیں انھیں نفسیاتی طور پر حماس کا خوف سوار ہے جب کہ جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق حماس کے ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے بھی انھیں شکوک ہیں اور لگتا ہے کہ ان کا شک اب عام عوام کی جان سے کھیلتا نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ حماس نے ایک طویل عرصہ فلسطین کے حوالے سے اقتدار پر اپنی گرفت رکھی لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی کوشش حماس اور عام فلسطینی شہری کو دو پارٹیوں میں بانٹنے کی ہے تاکہ شکوک کا فائدہ اٹھا کر قتل و غارت گری کرکے انسانی نفوس کا بوجھ کم کرے، اس تصویر کا تکلیف دہ رخ یہ بھی ہے کہ حماس کی اندرونی سیاست بھی وہاں کے عوام کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔

ایک جانب اسرائیلی افواج حماس کی تلاش میں عام فلسطینی شہریوں کو بھنبھوڑ رہی ہے، ان کے گھر برباد کر رہی ہے تو دوسری جانب حماس اپنے ناپسندیدہ اور مخالف لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مجموعی صورت حال جو بھی ہو لیکن مظلوم کے حق میں برا ہی ہو رہا ہے۔ ان کی جان و مال دونوں خطرے میں گھری ہے۔

حماس اس وقت اسماعیل ہنیہ جیسے مضبوط رہنما کی کمی کا بری طرح شکار ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ان کے بعد یحییٰ ابراہیم السنوار اور پھر صالح العاروری بھی اس دنیا سے چلے گئے۔

ایک کے بعد ایک مضبوط اعصاب کے مالک اور فیصلہ کن صلاحیت کے مالک رہنماؤں کی کمی نے حماس میں اضطراری سی صورت حال پیدا کر دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف افواہوں کا بھی ایک بازار سرگرم ہے۔

انھیں ظالم اور اپنے ہی لوگوں کو مارنے کے حوالے سے ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے یا کوشش کی جا رہی ہے کہ اہم اور بڑے رہنماؤں کی غیر موجودگی میں انھیں بے عمل کر کے دھکیل دیا جائے تاکہ فلسطین کی سرزمین دبے سہمے سہاروں سے بھی آزاد ہو جائے اور اکثریت کو اقلیت ڈکلیئر کر کے نیتن یاہو اور ان کے حواریوں کو مطمئن کیا جاسکے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح فلسطین ایک آزاد ریاست کا خواب بھول جائے گا؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آزادی کی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور آیندہ آنے والے سالوں میں بھی امکان ہے کہ یہ تحریک نئے انداز سے مزید ابھرکر سامنے آئے گی۔

حال ہی میں ایک 153 فلسطینیوں سے بھرا ایک جہاز غزہ سے لے کر جوہانسبرگ جا پہنچا، یہ جہاز غزہ سے نکلنے والے فلسطینیوں پر مشتمل تھا یہ ساری کہانی اس وقت مزید پراسرار ہوتی ہے جب پتا چلتا ہے کہ ان تمام مسافروں کی سفری دستاویز نامکمل ثابت ہوتی ہیں۔

ان کے پاسپورٹ پر ملک چھوڑنے کی ضروری مہم نہیں تھی۔ خبر یہ بھی ہے کہ کسی تھرڈ کنٹری کی خصوصی اجازت کے بعد غزہ سے نکلنے کی اجازت دی گئی، اب یہ تیسرا ملک کون سا ہے؟

اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ فلسطینی کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں؟ بہرکیف ایک جنگ زدہ ملک کے شہری ہمدردی اور رحم کے مستحق ہیں۔ ان مسافروں میں سے اکثر کو جنوبی افریقہ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی جب کہ کچھ دیگر ممالک کی جانب سفر کر گئے۔

فلسطین کی حالت اس انداز پر بدترین کی جا رہی ہے، رہے سہے حوصلے بھی بکھرتے ہی جا رہے ہیں۔ حالیہ جنگ بندی کی باتوں، دعوؤں سے پہلے دنیا ان کے حق میں چیخ رہی تھی، احتجاج ہو رہے تھے لیکن اب جنگ بندی کے نعرے تو لگے پر پھر وہی خون کی ہولی، لیکن اب تو بولنے والے، احتجاج کرنے والے بھی چپ ہو گئے ہیں یا شاید تھک گئے ہیں۔

سوشل میڈیا اور نیوز چینل پر بھی ان کی خبروں کے سلسلے تھم سے گئے ہیں کہ اب تباہ شدہ ملبے کی تصاویر اور وڈیو بھی شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے، ایک خاموش خون سے لکھی کہانی چل رہی ہے لوگ تڑپ رہے ہیں، بھوک سے بلبلا رہے ہیں، سیاست بھی چل رہی ہے، وقت گزر رہا ہے، زندگی روتی سسکتی گزر رہی ہے، نجانے کب تک۔۔۔۔ خدا جانے۔

متعلقہ مضامین

  • فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، دفتر خارجہ
  • کہانی فلسطین کی
  • دنیا بھر میں آج فلسطینی عوام کیساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے۔
  • اسرائیل کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے: پاکستان
  • فلسطینی عوام سے یکجہتی کا دن، وزیرِاعظم اور صدرِمملکت کا پیغام
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل
  • اسرائیلی فوج کی سفاکیت: نہتے فلسطینی نوجوانوں کو بےرحمی سے بھون ڈالا
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ نہتے فلسطینی نوجوانوں کو بھون ڈالا؛ ویڈیو وائرل