data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا:۔ چٹاگانگ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں 44سال بعد، اسلامی چھاترو شبر (اسلامی جمعیت طلبہ)کے حمایت یافتہ سومپریتر سکھارتھی جوٹ پینل نے نائب صدر، جنرل سکریٹری اور 22 دیگر عہدوں پر کامیابی حاصل کرلی۔

نائب صدر کے عہدے کے لیے اسلامی چھاترو شبر کے حمایت یافتہ امیدوار ابراہیم رونی 7,983 ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ ان کے قریبی حریف چھتر دل کے حمایت یافتہ امیدوار سجاد حسین کو 4,374 ووٹ ملے۔ جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لیے شبر کے حمایت یافتہ امیدوار سید بن حبیب 8,031 ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ ان کے قریبی حریف چھاترا دل کے حمایت یافتہ امیدوار محمد شفاعت حسین نے 2,734 ووٹ حاصل کیے۔

دوسری جانب چھتر دل کے حمایت یافتہ امیدوار ایوب الرحمان توفیق اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے۔ انہیں 7,014 ووٹ ملے۔ ان کے قریبی حریف سجاد حسین منا نے 5,045ووٹ حاصل کیے۔ چھتر دل کے ہی حمایت یافتہ امیدوار اسسٹنٹ اسپورٹس سیکریٹری کے عہدے کے لیے آزاد امیدوار تمنا محبوب پریتی 4,829 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ ان کے قریب ترین حریف، شبر کے حمایت یافتہ امیدوار شاہ پورن معروف نے 4,594 ووٹ حاصل کیے۔

باقی 22 عہدوں پر بھی شبر کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔چٹاگانگ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے چیف الیکشن کمشنر پروفیسر منیر الدین نے بی بی اے فیکلٹی آڈیٹوریم میں صبح 5:00 بجے نتائج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات پرامن طریقے سے اور انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئے۔اس سے پہلے، اسلامی چھاترو شبر نے آخری بار 1981ءمیں یونین الیکشن جیتا تھا، پانچویں یونین انتخابات کے دوران جاسم الدین سرکار نائب صدر اور عبدالغفار جنرل سیکرٹری بنے۔ دونوں چٹاگانگ یونیورسٹی میں شبر کے رہنما تھے۔

تقریباً 10سال بعد، 8 فروری 1990 کو، چھٹا یونین الیکشن ہوا۔ اس الیکشن میں تمام طلبہ گروپوں کے مشترکہ پینل نے کامیابی حاصل کی۔ نائب صدر ناظم الدین اور جنرل سکریٹری سماج تانترک چھاترا محاذ کے عظیم الدین احمد منتخب ہوئے تھے۔اس کے بعد 35 سال تک یونین الیکشن نہیں ہوئے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شبر کے حمایت یافتہ امیدوار

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم